کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تسبیح ، تحمید اور دیگر کا مجموعہ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - يَعْنِي الْبَاهِلِيَّ - قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جَالِسٌ أُحَرِّكُ شَفَتِي فَقَالَ : " بِمَ تُحَرِّكُ شَفَتَكَ ؟ " . قُلْتُ : أَذْكُرُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا أُخْبِرُكَ بِشَيْءٍ إِذَا قُلْتَهُ ثُمَّ دَأَبْتَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَمْ تَبْلُغْهُ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي كِتَابِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى خَلْقَهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي خَلْقِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، وَتُسَبِّحُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَتُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَإِسْنَادُ أَحَدِهِمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، میں اُس وقت بیٹھا ہوا تھا اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اپنے ہونٹوں کو کیوں حرکت دے رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جب تم اس کو پڑھ لو گے تو پھر اگر تم رات دن مشقت ( یعنی ذکر اذکار ) کرتے رہو ، تو اس ( میرے بتائے ہوئے کے اجر و ثواب ) تک نہیں پہنچ سکو گے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي كِتَابِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى خَلْقَهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي خَلْقِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو اتنی تعداد میں ہو ، جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو اتنی تعداد میں ہو ، جو تعداد اس کی کتاب میں مذکور ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اتنی تعداد میں ہو ، جتنا اس کی مخلوق کا شمار ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق میں موجود جگہ کو بھر دے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کے آسمانوں اور زمین کو بھر دے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام چیزوں کی تعداد جتنی ہو ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر چیز کے حوالے سے ہو ۔ “
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم تسبیح کے کلمات بھی اسی کی مانند پڑھو ، اور تکبیر کے کلمات بھی اسی کی مانند پڑھو ( یعنی ان الفاظ میں : «سبحان الله» اور «الله اكبر» بھی لگا کر پڑھو ! ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7930 و 8122)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَيْضًا قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُحَرِّكُ شَفَتِي فَقَالَ : " مَا تَقُولُ يَا أَبَا أُمَامَةَ ؟ " . قُلْتُ : أَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِ اللَّيْلِ عَلَى النَّهَارِ ؟ تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مِلْءُ مَا أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ ، وَتُسَبِّحُ اللَّهَ مِثْلَهُنَّ " . ثُمَّ قَالَ : " تَعَلَّمْهُنَّ وَعَلِّمْهُنَّ عَقِبَكَ مِنْ بَعْدِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ میں ہونٹوں کو حرکت دے رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوامامہ ! تم کیا پڑھ رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اللہ کا ذکر کر رہا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف نہ کروں جو تمہارے رات دن کے ذکر سے زیادہ ( یعنی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہو ؟ تم یہ پڑھو :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مِلْءُ مَا أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ»
” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کو بھر دے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اتنی تعداد میں ہو جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے ، اور ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس شمار جتنی ہو ، جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اتنی تعداد میں ہو ، جو اُس کو بھر دے جو ہر چیز کا شمار ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر تم «سبحان الله» بھی اسی کی مانند پڑھو ۔ “
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ان کلمات کو سیکھ لو ! اور اپنے بعد اپنی آل اولاد کو ان کی تعلیم دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7930)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ»
” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو اتنی تعداد میں ہو جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر چیز کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام چیزوں کو بھر دے اور میں اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں ( اتنی تعداد میں ) جو ہر چیز کو بھر دے اور میں اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں جو تمام چیزوں کی تعداد جتنا ہو ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد بن عبداللہ واسطی ہے ، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور ( دوسروں کے ) برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7987)»
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، [وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ] وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَهَا ، فَأَعْظِمْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا : «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کو بھر دے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اتنی تعداد میں ہو جتنا کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود جگہ کو بھر دے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اتنی تعداد میں ہو جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ان سب چیزوں کو بھر دے ، جن کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام چیزوں کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام چیزوں کو بھر دے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر تم «سبحان الله» بھی اسی کی مانند پڑھو ! اور اسے عظیم سمجھو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (249/5)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُحَرِّكُ شَفَتِي فَقَالَ : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، مَا تَقُولُ ؟ " . قُلْتُ : أَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُعَلِّمُكَ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ ، وَالنَّهَارَ مَعَ اللَّيْلِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ اخْتَلَطَ ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ میں اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابودرداء ! تم کیا کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اللہ کا ذکر کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جو تمہارے دن کے ہمراہ رات بھر ذکر کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ؟ اور رات کے ہمراہ دن بھر ذکر کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی وہ کلمات درج ذیل ہیں : )
«سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ»
” میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو تمام چیزوں کی تعداد جتنی ہو ، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جو ان سب چیزوں کو بھر دے ، جنہیں اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کو بھر دے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے جو اس چیز کو بھر دے جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اور اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، یہ حسن الحدیث ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3080)»