کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: باقی رہ جانے والی نیکیوں ، اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16836
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ " . قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " التَّكْبِيرُ ، وَالتَّهْلِيلُ ، وَالتَّحْمِيدُ ، وَالتَّسْبِيحُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ بَدَلَ : وَمَا هِيَ ؟ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” باقی رہ جانے والی نیکیاں کثرت سے کرو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” «الله اكبر» “ پڑھنا - ” «لا إِلهَ إِلَّا الله» “ پڑھنا - ” «الْحَمْدُ لِله» “ پڑھنا ۔ ” «سُبْحَانَ اللَّهِ» “ پڑھنا ۔ اور ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» “ پڑھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16837
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ . فَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ : وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے ، چار کلمات کو منتخب کیا ہے : ” «سُبحَانَ اللَّهِ - الحمد لله - لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ۔ ۔ اللَّهُ اكبر» “ ۔ تو جو شخص ” «سبحان الله» “ پڑھتا ہے ، اس کے لئے ہمیں نیکیاں نوٹ کر لی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ، جو شخص ” «الله اكبر» “ پڑھتا ہے ، اسے بھی اس کی مانند اجر و ثواب ملتا ہے ، جو شخص ” «لا إله إلا الله» “ پڑھتا ہے ، اسے بھی اس کی مانند اجر و ثواب ملتا ہے ، اور جو شخص ” «الحمد لله رب العالمين» “ اپنی طرف سے پڑھتا ہے ، اسے تیس نیکیاں دی جاتی ہیں ، اور اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 16838
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً " . مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كُتِبَتْ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص ” سبحان الله “ پڑھتا ہے اس کے لئے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے “ ۔ یعنی اس روایت کے الفاظ میں راوی کو شک نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص ” سبحان الله “ پڑھتا ہے اس کے لیے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ، جو شخص ” الحمد للہ “ پڑھتا ہے ، اُسے اس کی مانند اجر ملتا ہے ، جو شخص ” لا الہ الا الله “ پڑھتا ہے ، اُسے اس کی مانند اجر ملتا ہے ، اور جو شخص اپنی طرف سے ” اللہ اکبر “ پڑھتا ہے ، اُس کے لیے تیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص ” سبحان الله “ پڑھتا ہے اس کے لیے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ، جو شخص ” الحمد للہ “ پڑھتا ہے ، اُسے اس کی مانند اجر ملتا ہے ، جو شخص ” لا الہ الا الله “ پڑھتا ہے ، اُسے اس کی مانند اجر ملتا ہے ، اور جو شخص اپنی طرف سے ” اللہ اکبر “ پڑھتا ہے ، اُس کے لیے تیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16839
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ الْكَلَامِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا کلام ۔ ” «سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» “ - پڑھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16840
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الْكَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ - وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ - أَرْبَعٌ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : " بَعْدَ الْقُرْآنِ ، وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا کلام چار کلمات ہیں ، ویسے یہ بھی قرآن کا حصہ ہی ہیں ، تم ان میں سے ، جس کے ذریعے بھی آغاز کرو گے ، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا ، وہ کلمات یہ ہیں : ” «سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” قرآن کے بعد “ اور ” ویسے یہ قرآن ہی کا حصہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” قرآن کے بعد “ اور ” ویسے یہ قرآن ہی کا حصہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16841
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا ، لَيْسَ بِقُرْآنٍ - وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ - : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَمَا رَوَى عَنْهُ إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ أَضْعَفُ ، وَهَذَا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے تمہارے لیے چار کلمات منتخب کیے ہیں ، وہ قرآن نہیں ہیں ، لیکن وہ قرآن کا حصہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ»
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اسحاق بن سلیمان رازی نے اس سے جو روایات نقل کی ہیں ، وہ زیادہ ضعیف ہیں ، اور
یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اسحاق بن سلیمان رازی نے اس سے جو روایات نقل کی ہیں ، وہ زیادہ ضعیف ہیں ، اور
یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔
حدیث نمبر: 16842
وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي أَفْضَلَ الْكَلَامِ ، قَالَ : " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَةَ مَرَّةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، فَإِنَّكَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتَ ، وَأَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهَا سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ ، وَإِنَّهَا مِمْحَاةٌ لِلْخَطَايَا " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " مُوجِبَةٌ لِلْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومندر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے افضل کلام کی تعلیم دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابومندر ! تم یہ پڑھو : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ یکتا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، اور ہر قسم کی بھلائی اُسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تم روزانہ ایک سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لو ، تو اُس دن میں ، تم عمل کے اعتبار سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ فضیلت والے ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے اس کلمے کو اتنی ہی تعداد میں پڑھا ہو ، جتنی تعداد میں تم نے پڑھا ہے ، تم کثرت کے ساتھ «سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله» پڑھا کرو ! کیونکہ یہ سید الاستغفار ہے ، اور یہ گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ “ راوی کو شک ہے ، شاید روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” یہ جنت کو واجب کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16843
وَعَنْ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ ، يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ " قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، قُلْتُ : وَالصَّحَابِيُّ الَّذِي لَمْ يُسَمَّ هُوَ ثَوْبَانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں بہت خوب ہیں ، بہت خوب ہیں ، یہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ۔ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» - اور «اللَّهَ أَكْبَر» - اور «سُبْحَانَ الله» - اور «الحمد الله» پڑھنا ۔ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہو جائے ، اور آدمی اُس کے حوالے سے ثواب کی امید رکھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن صحابی کا نام انہوں نے بیان نہیں کیا وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ہوں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن صحابی کا نام انہوں نے بیان نہیں کیا وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ہوں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 16844
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يَمُوتُ لِلْمَرْءِ فَيَحْتَسِبُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَهُ : الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْبَاشَانِيَّ ، لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں بہت خوب ہیں ، بہت خوب ہیں ، یہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ۔ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» - اور «سُبْحَانَ اللَّهِ» - اور «الْحَمْدُ اللَّهُ» اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہو جائے ، اور آدمی اُس کے حوالے سے ثواب کی امید رکھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، البتہ ان کے استاد عباس بن عبدالعظیم باشانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، البتہ ان کے استاد عباس بن عبدالعظیم باشانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16845
وَعَنْ أَبِي سَلْمَى - رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فَيَحْتَسِبُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ، سیدنا ابوسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پانچ چیزیں بہت خوب ہیں ، بہت خوب ہیں ، وہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ۔ «لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ» - اور «اللَّهُ أَكْبَر» - اور «سُبْحَانَ الله وبحمده» پڑھنا ۔ اور وہ نیک اولاد جو کسی مسلمان شخص کی فوت ہو جائے ، اور وہ اُس کے حوالے سے ثواب کی امید رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16846
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَفَرْطٌ صَالِحٌ يُفْرَطُ لِلرَّجُلِ» . ¤ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں بہت خوب ہیں ، بہت خوب ہیں ، وہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ» - اور «الحمد لله» - اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» ۔ اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ اور وہ نیک اولاد جسے آدمی آگے بھجوا دیتا ہے ( یعنی آدمی کی جو اولاد فوت ہو جاتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16847
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِجُلَسَائِهِ : " خُذُوا جَنَّتَكُمْ " . قَالُوا : بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَضَرَ عَدُوٌّ ؟ قَالَ : " خُذُوا جَنَّتَكُمْ مِنَ النَّارِ ، قُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهُنَّ مُقَدِّمَاتٌ ، وَهُنَّ مُنْجِيَاتٌ ، وَهُنَّ مُعَقِّبَاتٌ ، وَهُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَالضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے افراد سے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے بچاؤ کی تیاری کر لو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا دشمن آ گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جہنم سے بچاؤ کی تیاری کر لو ! تم لوگ «سبحان الله» اور «الْحَمْدُ الله» - اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» اور «الله اكبر» اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھو ! کیونکہ یہ آگے کرنے والی چیزیں ہیں ، اور یہ نجات دینے والی چیزیں ہیں ، اور یہ معقبات ہیں ، اور یہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الضعفاء “ اور کتاب ” الثقات “ دونوں میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الضعفاء “ اور کتاب ” الثقات “ دونوں میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 16848
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا جَنَّتَكُمْ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ عَدُوٍّ حَضَرَ ؟ فَقَالَ : " خُذُوا جَنَّتَكُمْ مِنَ النَّارِ . قُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهُنَّ يَأْتِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُسْتَقْدِمَاتٍ ، وَمُنْجِيَاتٍ ، وَمُجَنِّبَاتٍ ، وَهُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ فِي الصَّغِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دَاوُدَ بْنِ بِلَالٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے بچاؤ کی تیاری کر لو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دشمن آ گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جہنم سے بچاؤ کی تیاری کر لو ! تم لوگ ۔ ” سُبْحَانَ اللهِ “ - اور الْحَمْدُ الله “” “” اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» - اور «اللَّهُ أَكْبَر» اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بالله» پڑھو ! کیونکہ یہ کلمات جب قیامت کے دن آئیں گے ، تو یہ آگے آگے ہوں گے ، نجات دلانے والے ہوں گے ، الگ کرنے والے ہوں گے ، اور یہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اُن کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ داؤد بن بلال کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اُن کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ داؤد بن بلال کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16849
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، [ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ] ، خَتَمَ عَلَيْهِنَّ مَلَكٌ بِجَنَاحِهِ ، فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يَبْلُغَ بِهِنَّ الْعَرْشَ ، فَلَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِنَّ ، وَعَلَى قَائِلِهِنَّ ، وَالتَّسْبِيحُ تَنْزِيهٌ [ مِنَ ] اللَّهِ مِنْ كُلِّ [ سُوءٍ ] ، وَمَنْ قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ قَالَ : أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ اللہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھتا ہے : «سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “ تو ایک فرشتہ اپنے ” پر “ کے ذریعے اُن پر مہر لگا دیتا ہے ، اور وہ اس وقت تک نہیں رکھتا ، جب تک انہیں لے کر عرش کے پاس نہیں پہنچ جاتا ، وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتا ہے ، وہ چیز ان کلمات اور انہیں پڑھنے والے کے لیے دعائے رحمت کرتی ہے ” تسبیح “ سے مراد یہ ہے : کہ اللہ تعالیٰ کو ہر اس چیز سے پاک قرار دیا جائے جو بری ہو ( یعنی جو اُس کی شان کے لائق نہ ہو ) اور جو شخص - «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» -- پڑھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت و فرمانبرداری کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16850
وَعَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ : جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَكْفِيرِ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِلذُّنُوبِ - وَقَالَ : " وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . قَالُوا : هَذِهِ الْحَسَنَاتُ ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام حارث بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ، ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، مؤذن اُن کے پاس آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں یہ بات مذکور ہے : ” فرض نماز گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔ “ آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اور یہی وہ نیکیاں ہیں ، جو برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہوئیں ، تو باقی رہنے والی چیزیں کیا ہیں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَسُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبد کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا عثمان کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں یہ بات مذکور ہے : ” فرض نماز گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔ “ آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اور یہی وہ نیکیاں ہیں ، جو برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہوئیں ، تو باقی رہنے والی چیزیں کیا ہیں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَسُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبد کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا عثمان کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16851
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُسَبِّحُ لِلَّهِ تَسْبِيحَةً ، أَوْ يَحْمَدُهُ تَحْمِيدَةً ، أَوْ يُكَبِّرُهُ تَكْبِيرَةً ، إِلَّا غَرَسَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ ، أَصْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَأَعْلَاهَا مِنْ جَوْهَرٍ ، مُكَلَّلَةٌ بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، ثِمَارُهَا كَثَدْيِ الْأَبْكَارِ ، أَلْيَنُ مِنَ الزَّبَدِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، كُلَّمَا جَنَى مِنْهَا شَيْئًا عَادَ مَكَانَهُ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” جو بھی بندہ ایک مرتبہ «سبحان الله» پڑھتا ہے ، یا ایک مرتبہ ” الحمد للہ “ پڑھتا ہے ، یا ایک مرتبہ «الله اكبر» پڑھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیتا ہے ، جس کی جڑ سونے کی ہوتی ہے ، اور اس کا اوپر والا حصہ جواہرات سے بنا ہوا ہوتا ہے ، جو قیمتی پتھروں اور یاقوت سے آراستہ ہوتے ہیں ، اس درخت کے پھل کنواری لڑکیوں کی چھاتیوں کی مانند ہوتے ہیں اور جھاگ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ، اور شہد سے زیادہ میٹھے ہوتے ہیں ، آدمی جب بھی اس میں سے کوئی پھل اتارے گا تو وہ پہلے کی مانند ہو جائے گا ( یعنی اس جگہ دوسرا پھل آ جائے گا ) ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : نہ وہ ایسے ہیں کہ وہ ختم ہو جائیں اور نہ ہی ممنوعہ ہیں ۔ “ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16852
وَعَنْ سَلْمَانَ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قِيعَانًا ، فَأَكْثِرُوا غَرْسَهَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا غَرْسُهَا ؟ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جنت میں صاف زمین ہے ، تو تم اُس میں زیادہ پودے لگاؤ ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن میں پودے لگانے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» پڑھنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن علوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن علوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16853
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - تَسْبِيحَةً ، وَحَمِدَهُ تَحْمِيدَةً ، وَهَلَّلَهُ تَهْلِيلَةً ، وَكَبَّرَهُ تَكْبِيرَةً ; غَرَسَ [ اللَّهُ ] لَهُ شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ ، أَصْلُهَا يَاقُوتٌ أَحْمَرُ ، مُكَلَّلَةٌ بِالدُّرِّ ، طَلْعُهَا كَثَدْيِ الْأَبْكَارِ ، أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَلْيَنُ مِنَ الزَّبَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ سَلْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَجَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص ایک مرتبہ «سبحان الله» پڑھ لیتا ہے ، یا ایک مرتبہ «الحمد لله» پڑھ لیتا ہے ، یا ایک مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھ لیتا ہے ، یا ایک مرتبہ «الله اكبر» پڑھ لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیتا ہے ، جس کی جڑ سرخ یاقوت کی ہوتی ہے اور اس پر قیمتی پتھر لگے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کے شگوفے کنواری لڑکیوں کی چھاتی کی مانند ہوتے ہیں ، اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور جھاگ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عدی ہے ، جس نے اسے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عدی ہے ، جس نے اسے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16854
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤْتِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ ، وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُؤْتِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ ، فَمَنْ ضَنَّ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ ، وَهَابَ الْعَدُوَّ أَنْ يُجَاهِدَهُ ، وَاللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ ; فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق ، تمہارے درمیان تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اس نے تمہارا رزق تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ مال اُس شخص کو بھی دے دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس شخص کو بھی دے دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ ایمان صرف اُس کو دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اسے ایمان عطا کر دیتا ہے ، اور جو شخص مال خرچ کرنے کے حوالے سے بخل کا شکار ہو جائے ، یا جہاد میں حصہ لینے کے حوالے سے دشمن سے خوف زدہ ہو ، یا رات کے وقت عبادت نہ کر سکتا ہو ، اسے کثرت کے ساتھ ۔ «لا اله الا الله والله اكبر والحمد لله وسبحان الله» پڑھنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16855
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ ، وَهُنَّ يَحْطُطْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ، وَهُنَّ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ «سُبْحَانَ الله» اور «الْحَمْدُ الله» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» - اور «اللَّهُ أَكْبَر» - اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھو ! کیونکہ یہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں ، اور یہ گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ، جس طرح درخت پتے جھاڑ دیتا ہے ، اور یہ جنت کے خزانوں میں سے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 16856
وَفِي رِوَايَةٍ : " خُذْهُنَّ قَبْلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُنَّ الْبَاقِيَاتِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم انہیں حاصل کر لو ! اس سے پہلے کہ تمہارے اور ان کے درمیان رکاوٹ آ جائے اور یہ باقی رہ جانے والی چیزیں ہیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16857
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْخَمْسِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر یہ پانچ کلمات پڑھنا لازم ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16858
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أَتَيْتُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ ، قَبَضَ عَلَيْهِنَّ مَلَكٌ ، فَجَعَلَهُنَّ تَحْتَ جَنَاحِهِ ، ثُمَّ يَصْعَدُ بِهِنَّ فَلَا يَمُرُّ عَلَى جَمْعٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا اسْتَغْفَرُوا لِقَائِلِهِنَّ ، حَتَّى يَجِيءَ بِهِنَّ وَجْهَ الرَّحْمَنِ - تَبَارَكَ - ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں تمہیں کوئی حدیث بیان کروں گا تو تمہارے سامنے اُس کی تصدیق میں ، اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کوئی دلیل بھی پیش کروں گا ، جب کوئی مسلمان بندہ «الحمد لله» اور «سُبْحَانَ اللَّهِ» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» اور «الله اكبر» اور «تبارك الله» پڑھتا ہے ، تو ایک فرشتہ ان کلمات کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے ، اور وہ اپنے پروں کے نیچے انہیں رکھتا ہے ، پھر وہ ان کلمات کو ساتھ لے کر اوپر کی طرف جاتا ہے ، وہ فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتا ہے تو وہ فرشتے ان کلمات کو پڑھنے والے شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ فرشتہ ان کلمات کو لے کر رحمن کے سامنے آ جاتا ہے ۔ “ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں ، اور نیک عمل کو وہ بلند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16859
وَعَنْ عِمْرَانَ - يَعْنِي ابْنَ حُصَيْنٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعْمَلَ كُلَّ يَوْمٍ مِثْلَ أُحُدٍ عَمَلًا ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِثْلَ أُحُدٍ عَمَلًا ؟ ! قَالَ : " كُلُّكُمْ يَسْتَطِيعُهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا ؟ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی ایک یہ استطاعت نہیں رکھتا ؟ کہ وہ روزانہ اُحد پہاڑ جتنا عمل کرے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ روزانہ اُحد پہاڑ جتنا عمل کرے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب اس کی استطاعت رکھتے ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «سبْحَانَ الله» پڑھنا ، احد سے بڑا ہے ، الْحَمْدُ اللہ پڑھنا ، احد سے بڑا ہے ، «لا اله الا الله» پڑھنا ، احد سے بڑا ہے ، «الله اكبر» پڑھنا ، احد سے بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16860
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، كُتِبَتْ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ فِي بَاطِلٍ ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ ، وَمَنْ بَهَتَ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْعَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ، وَلَيْسَ بِخَارِجٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب نے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔ تو اس شخص کے لیے ہر ایک حرف کے بدلے میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہے ، اور جو شخص باطل کے بارے میں کسی جھگڑے میں مدد کرے گا ، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا ، یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو جائے ، اور جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف چلتا ہے ، اور جو شخص کسی مومن مرد یا مومن عورت پر بہتان لگائے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ” ردعۃ خبال “ میں بند رکھے گا ، جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات کی سزا نہیں بھگت لیتا اور وہ وہاں سے نہیں نکل پائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16861
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : أَنْ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ ، فَقَالَ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ مجھے ایسے کلمات کی تعلیم دیجئے ، جنہیں میں پڑھا کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16862
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : " أَلَا تَرْتَعُ فِي رَوْضَةِ الْجَنَّةِ وَتُرِيحُ فِيهَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الرَّتْعُ ؟ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قَالَ سَلْمَانُ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ غَرْسًا ، فَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدٌ الْمَكِّيُّ ، وَلَيْسَ هُوَ حُمَيْدَ بْنَ قَيْسٍ ، هَذَا مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم جنت کے باغوں میں سے کچھ کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اس میں چلتے پھرتے کیوں نہیں ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں سے کھانے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «الحمد لله» اور «سبحان الله» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ “ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر چیز کو بویا جاتا ہے ، تو جنت میں ہونے کا طریقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : «سبحان الله» - اور «الْحَمْدُ الله» اور «لا اله الا الله» اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید مکی ہے ، یہ حمید بن قیس نہیں ہے ، یہ ابن علقمہ کا غلام ہے ، زید بن حباب کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید مکی ہے ، یہ حمید بن قیس نہیں ہے ، یہ ابن علقمہ کا غلام ہے ، زید بن حباب کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16863
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ ، عَذْبَةُ الْمَاءِ ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَغِرَاسُهَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو دیکھا ، انہوں نے فرمایا : اے محمد ! آپ میری طرف سے اپنی امت کو سلام پہنچا دیں اور انہیں یہ بات بتا دیں : کہ جنت کی مٹی خوشبو والی ہے ، اس کا پانی میٹھا ہے اور وہاں کی زمین صاف ہے ، اور اس میں پودے لگانے کا طریقہ - «سبحانَ اللَّهِ» - اور «الْحَمْدُ اللَّهِ» - اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» - اور اللہ اکبر اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» - پڑھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16864
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، غُرِسَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص «سبحان الله» اور «الْحَمْدُ الله» اور «لا إِلهَ إِلَّا اللَّه» اور «الله اكبر» پڑھتا ہے ، اس کے لئے ان میں سے ہر ایک کلمہ کے بدلے میں ، جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16865
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، كَانَ مِثْلَ مِائَةِ بَدَنَةٍ إِذَا قَالَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ . ¤ وَمِنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، كَانَ عَدْلَ مِائَةِ فَرَسٍ مُسْرَجٍ مُلْجَمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَ كَعَدْلِ مِائَةِ بَدَنَةٍ تُنْحَرُ بِمَكَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ الطَّائِيُّ الْفَوْزِيُّ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ ثَلَاثَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَذَكَرَ شَرْطًا فَوُجِدَ ، فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ ; لِأَنَّ بَقِيَّةَ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص «سُبْحَانَ الله وبحمده» پڑھتا ہے تو اسے 100 جانور قربان کرنے کا ثواب ملتا ہے ، جبکہ اُس نے اس کلمے کو 100 مرتبہ پڑھا ہو ، اور جو شخص «الحمد لله» ایک سو مرتبہ پڑھتا ہے تو اسے اللہ کی راہ میں زمین اور لگام والے 100 گھوڑے دینے کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو شخص «الله اكبر» ایک سو مرتبہ پڑھتا ہے اسے 100 اونٹوں کے برابر ثواب ملتا ہے ، جنہیں مکہ میں ذبح کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن عثمان طائی فوزی ہے ، تینوں نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، انہوں نے ایک شرط ذکر کی ہے ، وہ پائی گئی ہے ، تو یہ حدیث حسن ہے کیونکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن عثمان طائی فوزی ہے ، تینوں نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، انہوں نے ایک شرط ذکر کی ہے ، وہ پائی گئی ہے ، تو یہ حدیث حسن ہے کیونکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16866
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَأَلَتْ أُمُّ هَانِئٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ فَعَلِّمْنِي دَعَوَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ ، قَالَ : " قُولِي : سُبْحَانَ اللَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ تَعْدِلُ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتَقُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ تَعْدِلُ مِائَةَ فَرَسٍ مُلْجَمٍ يُحْمَلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةً [ مَرَّةٍ ] تَعْدِلُ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ تُهْدَى إِلَى بَيْتِ اللَّهِ ، وَوَحِّدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ لَا يُدْرِكُكِ ذَنْبٌ بَعْدَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بھاری بھرکم عورت ہوں ، آپ مجھے ایسی دعاء کی تعلیم دیجئے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم «سبحان الله» 100 مرتبہ پڑھو ، یہ ایک سو غلاموں کے برابر ہو گا ، جنہیں اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا گیا ہو ، تم «الحمد لله» 100 مرتبہ پڑھو ، یہ اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیے جانے والے لگام والے 100 گھوڑوں کے برابر ہو گا ، تم ایک سو مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ! یہ 100 اونٹوں کے برابر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈال کر انہیں بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بھیجا گیا ہو ، اور تم ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرو ، تو شرک کے بعد کوئی گناہ تم تک نہیں پہنچ سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16867
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ - أَوْ كَمَا قَالَتْ - فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُ وَأَنَا جَالِسَةٌ ، قَالَ : " سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِيهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ ، وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةً " . ¤ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَمْ يَقُلْ أَحْسَبُهُ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبِرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَدُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . فَقَالَ : " بَخٍ بَخٍ ، لَقَدْ سَأَلَتْ " . وَقَالَ : " خَيْرٌ لَكِ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ ، مُجَلَّلَةٍ ، تَهْدِيهَا إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَقُولِي : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِائَةَ مَرَّةٍ فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِمَّا أَطْبَقَتْ عَلَيْهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ ، وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ أَفْضَلُ مِمَّا رُفِعَ لَكِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتِ أَوْ زَادَ " . ¤ وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بوڑھی اور کمزور ہو گئی ہوں ( راوی کہتے ہیں : یا جو لفظ بھی انہوں نے استعمال کیے ) تو آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں ہدایت کیجئے ، جسے میں بیٹھ کر ، کر لیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک سو مرتبہ «سبحان الله» پڑھو ! یہ تمہارے لئے ایک سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا ، جنہیں تم سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آزاد کرو گی ، تم ایک سو مرتبہ «الحمد لله» پڑھو ! کیونکہ یہ ایک سو گھوڑوں کے برابر ہو گا ، جن پر زین بھی ڈالی گئی ہو اور لگام بھی ڈالی گئی ہو ، اور وہ تم نے وہ اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دیئے ہوں ، اور 100 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ! کیونکہ یہ تمہارے کے ” ہدی “ کے 100 اونٹوں کے برابر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈالا گیا ہو ، اور وہ مقبول ہوں ، اور تم ایک سو مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھو ۔ “
ابن خلف نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ آسمان اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا اور اس دن کسی کا کوئی عمل اوپر نہیں جائے گا ( یعنی جو تمہارے اس عمل کے برابر ہو ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اس کی مانند عمل کیا ہو ، جو تم نے کیا ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ، میرے خیال میں امام طبرانی نے یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے ، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، تم نے ( اہم یا اچھا ) سوال کیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی اس روایت میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : )
” یہ تمہارے لیے قربانی کے ان ایک سو اونٹوں سے زیادہ بہتر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈالے گئے ہوں“ جن پر کپڑے ڈالے گئے ہوں اور جنہیں تم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بھجوایا ہو ، اور تم ایک سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھو ! یہ تمہارے لیے ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے ، اور اس دن کسی بھی شخص کا کوئی ایسا عمل اوپر نہیں جائے گا جو اس عمل سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جو عمل تمہاری طرف سے اوپر جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اتنی ہی تعداد میں یہ کلمات پڑھے ہوں ، جتنی مرتبہ تم نے پڑھے ہیں ، یا اس سے زیادہ پڑھے ہوں ۔ “
ان تمام روایات کی سند حسن ہے ۔
ابن خلف نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ آسمان اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا اور اس دن کسی کا کوئی عمل اوپر نہیں جائے گا ( یعنی جو تمہارے اس عمل کے برابر ہو ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اس کی مانند عمل کیا ہو ، جو تم نے کیا ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ، میرے خیال میں امام طبرانی نے یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے ، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، تم نے ( اہم یا اچھا ) سوال کیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی اس روایت میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : )
” یہ تمہارے لیے قربانی کے ان ایک سو اونٹوں سے زیادہ بہتر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈالے گئے ہوں“ جن پر کپڑے ڈالے گئے ہوں اور جنہیں تم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بھجوایا ہو ، اور تم ایک سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھو ! یہ تمہارے لیے ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے ، اور اس دن کسی بھی شخص کا کوئی ایسا عمل اوپر نہیں جائے گا جو اس عمل سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جو عمل تمہاری طرف سے اوپر جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اتنی ہی تعداد میں یہ کلمات پڑھے ہوں ، جتنی مرتبہ تم نے پڑھے ہیں ، یا اس سے زیادہ پڑھے ہوں ۔ “
ان تمام روایات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16868
وَعَنْ سَلْمَى أُمِّ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِكَلِمَاتٍ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ . قَالَ : " قَوْلِي : اللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، يَقُولُ اللَّهُ : هَذَا لِي ، وَقُولِي : سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، يَقُولُ اللَّهُ : هَذَا لِي ، وَقُولِي : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، يَقُولُ : قَدْ فَعَلْتُ ، فَتَقُولِينَ عَشْرَ مِرَارٍ ، وَيَقُولُ : قَدْ فَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سلمیٰ یا جو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بچوں کی والدہ ہیں ، اور سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کچھ کلمات کے بارے میں بتائیے ، لیکن وہ زیادہ نہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے لئے ہے ، تم دس مرتبہ «سبحان الله» پڑھو ! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے لئے ہے ، تم «اللهم اغفرلي» ( اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ) پڑھو ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے ایسا کر دیا ، تم یہ دس مرتبہ پڑھو گی ، تو اللہ تعالیٰ ( ہر مرتبہ ) یہی فرمائے گا : ” میں نے ایسا کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16869
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَوَضَعَ يَدَيْهِ : إِحْدَاهُمَا عَلَى صَدْرِي ، وَالْأُخْرَى بَيْنَ كَتِفَيَّ ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ الَّتِي فِي صَدْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ، وَالَّتِي بَيْنَ كَتِفَيَّ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، كَبِّرِ الْكَبِيرَ ، وَهَلِّلْ بِالْيَقِينِ ، وَقُلْ : سُبْحَانَ رَبِّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے پاس آئے ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک میرے سینے پر رکھا اور دوسرا میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ ان کا جو ہاتھ سینے پر تھا ، اُس کی ٹھنڈک میں نے دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کی ، اور جو ہاتھ دونوں کندھوں کے درمیان تھا ، اُس کی ٹھنڈک میں نے سینے میں محسوس کی ، پھر جبرائیل نے کہا: ” اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کبیر ذات کی کبریائی بیان کریں اور یقین کے ہمراہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھیں ، اور یہ پڑھیں : ” سب پہلے والوں اور سب بعد والوں کا پروردگار ، ہر عیب سے پاک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔