مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: تسبیح ، تحمید اور دیگر کا مجموعہ
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُحَرِّكُ شَفَتِي فَقَالَ : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، مَا تَقُولُ ؟ " . قُلْتُ : أَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُعَلِّمُكَ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ ، وَالنَّهَارَ مَعَ اللَّيْلِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ اخْتَلَطَ ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ میں اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابودرداء ! تم کیا کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اللہ کا ذکر کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جو تمہارے دن کے ہمراہ رات بھر ذکر کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ؟ اور رات کے ہمراہ دن بھر ذکر کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی وہ کلمات درج ذیل ہیں : )
«سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ»
” میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو تمام چیزوں کی تعداد جتنی ہو ، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، جو ان سب چیزوں کو بھر دے ، جنہیں اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اس کی مخلوق کو بھر دے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے جو اس چیز کو بھر دے جس کو اس کی کتاب میں شمار کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اور اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، یہ حسن الحدیث ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔