کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ’’ سبحان اللہ وبحمدہ “ پڑھنے کے بارے میں ، جو منقول ہے ، اور اس کے ساتھ کیا ملایا جائے ؟
حدیث نمبر: 16875
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص «سبحان الله وبحمده» پڑھ لیتا ہے ، اُس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 16876
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَالَهُ اللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ ، أَوْ بَخِلَ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ ، أَوْ جَبُنَ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ يُقَاتِلَهُ ، فَلْيُكْثِرْ مِنْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ; فَإِنَّهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ جَبَلِ ذَهَبٍ يُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، وَثَّقَهُ عَبْدَانُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَالْغَالِبُ عَلَى بَقِيَّةِ رِجَالِهِ التَّوْثِيقُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کو رات کے وقت عبادت کرنا مشکل لگتا ہو ، یا مال خرچ کرنے کے حوالے سے وہ بخل کا شکار ہو ، یا دشمن کے ساتھ لڑائی کرنے کے حوالے سے بزدلی کا شکار ہو ، اسے کثرت کے ساتھ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِه» پڑھنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ آدمی سونے کا پہاڑ اللہ کی راہ میں خرچ کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے جسے عبدان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال پر توثیق غالب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے جسے عبدان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال پر توثیق غالب ہے ۔
حدیث نمبر: 16877
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ أَنْ يَعْمَلَ لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَيْ حَسَنَةٍ ، حِينَ يُصْبِحُ يَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ; فَإِنَّهَا أَلْفَا حَسَنَةٍ وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَعْمَلَ فِي يَوْمِهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيَكُونَ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی بھی شخص روزانہ اللہ تعالیٰ کے لیے دو ہزار نیکیاں کرنا نہ چھوڑے ، جب صبح ہو تو وہ ایک سو مرتبہ «سبحانَ اللهِ وَ بِحَمْدِه» پڑھے ، تو یہ دو ہزار نیکیاں ہوں گی ، اللہ کی قسم ! اللہ نے چاہا تو وہ شخص اُس دن میں اتنے گناہ نہیں کر پائے گا اور اس کے علاوہ وہ جو نیکی کرے گا ، وہ مزید ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16878
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، مَنْ قَالَهَا كُتِبَتْ كَمَا قَالَهَا ، ثُمَّ عُلِّقَتْ بِالْعَرْشِ لَا يَمْحُوهَا ذَنْبٌ عَمِلَهُ صَاحِبُهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهِيَ مَخْتُومَةٌ كَمَا قَالَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ البَصْرِيِّ ، بِضَمِّ النُّونِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ ، اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْه»
” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، اسی کی حمد ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والی ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ان کلمات کو پڑھ لے گا ، تو یہ کلمات اُسی طرح نوٹ کر لئے جائیں گے ، جس طرح اُس نے پڑھے ہیں ، پھر انہیں عرش کے ساتھ لٹکا دیا جائے گا اور انہیں پڑھنے والے شخص کا کوئی بھی گناہ اُن کلمات کو مٹا نہیں سکے گا ، یہاں تک کہ وہ شخص جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اُن کلمات پر مہر لگی ہوئی ہو گی ، اسی طرح جیسے اس نے وہ کلمات پڑھے تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری بصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کم درجے کا صالح ہے ، اس کا اعتبار کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، اسی کی حمد ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والی ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ان کلمات کو پڑھ لے گا ، تو یہ کلمات اُسی طرح نوٹ کر لئے جائیں گے ، جس طرح اُس نے پڑھے ہیں ، پھر انہیں عرش کے ساتھ لٹکا دیا جائے گا اور انہیں پڑھنے والے شخص کا کوئی بھی گناہ اُن کلمات کو مٹا نہیں سکے گا ، یہاں تک کہ وہ شخص جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اُن کلمات پر مہر لگی ہوئی ہو گی ، اسی طرح جیسے اس نے وہ کلمات پڑھے تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری بصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کم درجے کا صالح ہے ، اس کا اعتبار کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔