کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان
قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ : فَوَلَدُ عُمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأُخْتَهُ لِأَبِيهِ ، وَأُمِّهِ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَكْبَرُ ، وَأُمُّهُمْ : زَيْنَبُ بِنْتُ مَظْعُونِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ ، كَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ، وَكَانَتْ قَبْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ، وَشَهِدَ بَدْرًا أَبُوهَا ، وَعَمُّهَا : زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَأَخْوَالُهَا : عُثْمَانُ ، وَقُدَامَةُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَابْنُ خَالِهَا : السَّائِبُ بْنُ عُثْمَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے اور ان کی سگی بہن سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں اور ایک بھائی عبدالرحمن اکبر ہیں ، ان سب کی والدہ کا نام زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح ہے ، یہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سیدنا خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ان کے چچا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ، ان کے ماموں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ماموں زاد بھائی سیدنا سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ ! إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ وَرَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي ، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لَا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو وہ رو رہی تھیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں روتی ہو ؟ شاید اللہ کے رسول نے نہیں طلاق دے دی ہے ، اللہ کے رسول نے پہلے بھی تمہیں طلاق دی تھی اور میری وجہ سے تم سے رجوع کر لیا تھا ، اللہ کی قسم ! اگر اب انہوں نے تمہیں طلاق دے دی تو میں تمہارے ساتھ کبھی کوئی بات نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَالَ : مَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَهَا ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُرَاجِعَ حَفْصَةَ رَحْمَةً لِعُمَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنے سر میں مٹی ڈالی اور بولے : اے ابن خطاب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پرواہ ہو گی ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور بولے : اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کر لیں ، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے رحمت کی وجہ سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : لَمَّا طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَفْصَةَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : رَاجِعْ حَفْصَةَ ; فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ; وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُطَلِّقَ حَفْصَةَ ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : لَا تُطَلِّقْهَا ; فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ، وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ . وَفِي إِسْنَادِ بِهِمَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کر لیں کیونکہ وہ روزہ رکھنے والی نوافل پڑھنے والی خاتون ہیں اور وہ جنت میں آپ کی اہلیہ ہوں گی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ انہیں طلاق نہ دیں کیونکہ وہ نفلی روزے رکھنے والی نوافل پڑھنے والی خاتون ہیں اور وہ جنت میں آپ کی اہلیہ ہوں گی ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ انہیں طلاق نہ دیں کیونکہ وہ نفلی روزے رکھنے والی نوافل پڑھنے والی خاتون ہیں اور وہ جنت میں آپ کی اہلیہ ہوں گی ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : طَلَّقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَفْصَةَ ، فَاغْتَمَّ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ ، وَدَخَلَ عَلَيْهَا خَالُهَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَأَخُوهُ قُدَامَةُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عِنْدَهَا وَهُمْ مُغْتَمُّونَ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَالَ : " يَا حَفْصَةُ ، أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - آنِفًا ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : رَاجِعْ حَفْصَةَ ; فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ; وَهِيَ زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی ، لوگ اس حوالے سے پریشان ہو گئے ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، یہ حضرات ابھی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے اور غمگین تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حفصہ ! ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ آپ حفصہ سے رجوع کر لیں کیونکہ وہ نفلی روزے رکھنے والی نوافل پڑھنے والی خاتون ہیں اور وہ جنت میں آپ کی اہلیہ ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ تَطْلِيقَةً ، فَأَتَاهَا خَالَاهَا عُثْمَانُ وَقُدَامَةُ ابْنَا مَظْعُونٍ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا طَلَّقَنِي عَنْ شِبَعٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ فَتَجَلْبَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : رَاجِعْ حَفْصَةَ ; فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ; وَإِنَّهَا زَوَّجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک طلاق دے دی ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے دو ماموں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ ، جو دونوں مظعون کے صاحبزادے ہیں ، وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اکتاہٹ کی وجہ سے طلاق نہیں دی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ گھر میں داخل ہوئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے چادر اوڑھ لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ آپ حفصہ سے رجوع کر لیں کیونکہ وہ نوافل پڑھنے والی اور نفلی روزے رکھنے والی خاتون ہیں اور وہ جنت میں آپ کی اہلیہ ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ عَامَ فُتِحَتْ إِفْرِيقِيَّةُ ، وَمَاتَتْ وَمَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس سال ہوا تھا جس سال افریقہ فتح ہوا تھا جب ان کا انتقال ہوا تھا اس وقت مروان مدینہ منورہ کا گورنر تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ : غَزَا مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ إِفْرِيقِيَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَالْأُولَى سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، وَالثَّانِيَةُ سَنَةَ أَرْبَعِينَ ، وَالثَّالِثَةُ سَنَةَ خَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ افریقہ کے لئے جنگ کی پہلی مرتبہ چونتیس ہجری میں اور دوسری مرتبہ چالیس ہجری میں اور تیسری مرتبہ پچاس ہجری میں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔