کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
حدیث نمبر: 15307
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَقَدْ أُعْطِيتُ تِسْعًا مَا أُعْطِيَتْهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ : لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ ، حَتَّى أُمِرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَزَوَّجَنِي ، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا ، وَمَا تَزَوَّجَ بِكْرًا غَيْرِي ، وَلَقَدْ قُبِضَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي ، وَلَقَدْ قَبَرْتُهُ فِي بَيْتِي ، وَلَقَدْ حَفَّتِ الْمَلَائِكَةُ بَيْتِي ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ وَهُوَ فِي أَهْلِهِ فَيَتَفَرَّقُونَ عَنْهُ ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ وَإِنِّي مَعَهُ فِي لِحَافِهِ ، وَإِنِّي لَابْنَةُ خَلِيفَتِهِ وَصَدِيقِهِ ، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ ، وَلَقَدْ خُلِّفْتُ طَيِّبَةً وَعِنْدَ طَيِّبٍ ، وَلَقَدْ وُعِدْتُ مَغْفِرَةً وَرِزْقًا كَرِيمًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبِي يَعْلَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے نو چیزیں ایسی عطا کی گئیں ہیں جو کسی اور خاتون کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، البتہ سیده مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کے آئے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: تھا کہ آپ میرے ساتھ شادی کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی ، آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کا سر میری گود میں تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میرے گھر میں بنی ہے ، میرے گھر کو فرشتوں نے ڈھانپ لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو اگر آپ اس وقت اپنی بیوی کے پاس موجود ہوتے تھے تو فرشتے آپ کے پاس نہیں آتے تھے ، لیکن جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں موجود ہوتی تھی ، تو آپ پر وحی نازل ہو جاتی تھی اور میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے صدیق کی بیٹی ہوں اور میری بے گناہی کے بارے میں آسمان سے حکم بھی نازل ہوا تھا ، میں پاکیزہ ہونے کے عالم میں پیدا ہوئی اور پاکیزہ شخص کے پاس رہی اور میرے ساتھ مغفرت اور معزز رزق کا وعدہ کیا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، صحیح میں اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، صحیح میں اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15308
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خِلَالٌ فِيَّ سَبْعٌ لَمْ تَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا آتَى اللَّهُ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ ، وَاللَّهِ مَا أَقُولُ هَذَا فَخْرًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبِي . ¤ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ : وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَتْ : نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي ، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ لِتِسْعِ سِنِينَ ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيَّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَكَانَ الْوَحْيُ يَأْتِيهِ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ . ¤ قَالَتْ : وَكُنْتُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ ، وَبِنْتَ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ ، وَلَقَدْ نَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَلَقَدْ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلَكُ فِيَّ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي ، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي ، وَلَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَقَوِيَ الْمَلَكُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھ میں سات خصوصیات ایسی ہیں جو کسی خاتون میں نہیں ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو جو خصوصیات عطا کی ہیں ، اس کا معاملہ مختلف ہے اور اللہ کی قسم ! میں اپنی دیگر ساتھی خواتین میں سے کسی ایک کے خلاف فخر کے اظہار کے طور پر یہ بات نہیں کہہ رہی ہوں ۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین ! وہ خصوصیات کیا ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ” فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس وقت شادی کی جب میں سات سال کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو میں نو سال کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی ، آپ نے اس چیز میں کسی کو شریک نہیں بنایا ( یعنی آپ نے کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ) اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کی بیٹی ہوں اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی تھیں حالانکہ قریب تھا کہ امت میری وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتی اور میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ہوا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی اور نے ، میرے علاوہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا تھا اور فرشتہ قوی ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15309
وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " وَلِمَ ؟" قُلْتُ : لِأُحِبَّ مَا تُحِبَّ ، قَالَ : " عَائِشَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں ، جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15310
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ النِّسَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : عَائِشَةُ، قُلْتُ : فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ : أَبُوهَا .رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب خواتین میں سے کون سب سے زیادہ محبوب تھیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : عائشہ ، میں نے دریافت کیا : مردوں میں سے کون میں تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان کے والد ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15311
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قُلْتُ : سَبَّتْنِي فَاطِمَةُ ، فَدَعَا فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، سَبَبْتِ عَائِشَةَ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضَ ؟ " . قَالَتْ : بَلَى قَالَ : " فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ ; فَأَحِبِّيهَا " . قَالَتْ فَاطِمَةُ : لَا أَقُولُ لِعَائِشَةَ شَيْئًا يُؤْذِيهَا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : فاطمہ نے مجھے برا بھلا کہا: ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : اے فاطمہ ! تم نے عائشہ کو برا کہا: ہے ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس سے بغض نہیں رکھتی جس سے میں بغض رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں عائشہ سے محبت رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے محبت رکھو ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو انہیں تکلیف دے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15312
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا ، وَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا ، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي ، وَكَانَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ ، وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ بِغَيْرِي ، وَكَانَ لِي يَوْمَانِ وَلَيْلَتَانِ وَلِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : مَتْنٌ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے سات خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میں اپنی ذات کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب لوگوں میں زیادہ محبوب تھی اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی ، آپ نے میرے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ پر وحی لے کر نازل ہوتے تھے اور میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں موجود ہوتی تھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے علاوہ کسی اور زوجہ کے حوالے سے ایسا نہیں کرتے تھے اور میری باری کے دو دن اور دو راتیں ہوتی تھیں اور دیگر تمام ازواج کے لئے ایک دن اور ایک رات ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ضعیف متن پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ضعیف متن پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15313
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَوْمَ مَاتَتْ عَائِشَةُ : الْيَوْمَ مَاتَ أَحَبُّ شَخْصٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَتْ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مَا خَلَا أَبَاهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جس دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آج وہ شخصیت فوت ہو گئی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتی ہوں البتہ ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15314
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ : بَعَثَ زِيَادٌ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَالٍ وَفَضَّلَ عَائِشَةَ . فَجَعَلَ الرَّسُولُ يَعْتَذِرُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : يَعْتَذِرُ إِلَيْنَا زِيَادٌ ! فَقَدْ كَانَ يُفَضِّلُهَا مَنْ كَانَ أَعْظَمُ عَلَيْنَا تَفْضِيلًا مِنْ زِيَادٍ ؛ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حارث بن مصطلق بیان کرتے ہیں : زیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس مال بھجوایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اضافی چیزیں بھیجوائیں ، قاصد نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بارے میں معذرت پیش کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : زیاد ہمارے سامنے معذرت پیش کر رہا ہے جب کہ عائشہ کو وہ ہستی زیادہ چیزیں دیا کرتی تھی جو زیاد سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15315
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُفَكِّرُ فِي أَمْرِكِ فَأَعْجَبُ ! أَجِدُكِ مِنْ أَفْقَهِ النَّاسِ فَقُلْتُ : مَا يَمْنَعُهَا ؟ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ . وَأَجِدُكِ عَالِمَةً بِأَيَّامِ الْعَرَبِ وَأَنْسَابِهَا وَأَشْعَارِهَا فَقُلْتُ : وَمَا يَمْنَعُهَا ; وَأَبُوهَا عَلَّامَةُ قُرَيْشٍ ؟ وَلَكِنْ أَعْجَبُ أَنِّي وَجَدْتُكِ عَالِمَةً بِالطِّبِّ ، فَمِنْ أَيْنَ ؟ فَأَخَذَتْ بِيَدِي ، فَقَالَتْ : يَا عُرَيَّةُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثُرَتْ أَسْقَامُهُ ، فَكَانَتْ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ يَبْعَثُونَ لَهُ ، فَتَعَلَّمْتُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَتْ : وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ كَانَ يَقُولُ لِعَائِشَةَ . . . فَظَاهِرُهُ الِانْقِطَاعُ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَهُوَ مُتَّصِلٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں ، میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ ہے ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، یہ اللہ کے رسول کی اہلیہ ہیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ، پھر میں نے آپ کو پایا کہ آپ عربوں کی تاریخ اور ان کے نسب کی عالمہ ہیں اور ان کی شاعری کی عالمہ ہیں ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، ان کے والد قریش کے بڑے صاحب علم تھے ، لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ طب کے بارے میں بھی جانتی ہیں ، یہ علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے عریہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیمار ہو جاتے تھے تو عربوں اور عجمیوں کے طبیب آیا کرتے تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوا بھجواتے تھے ، تو اس سے میں نے یہ چیز سیکھی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: میں ان بیماریوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی اور کہاں سے ( علم طب کے بارے میں معلومات ) آنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن معاویہ زبیری ہے ابوحاتم کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کے معجم کبیر میں بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام أحمد نے یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا: ، تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سند منقطع ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ بات منقول ہے ، تو یہ سند متصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: میں ان بیماریوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی اور کہاں سے ( علم طب کے بارے میں معلومات ) آنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن معاویہ زبیری ہے ابوحاتم کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کے معجم کبیر میں بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام أحمد نے یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا: ، تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سند منقطع ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ بات منقول ہے ، تو یہ سند متصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15316
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : هَلْ كَانَتْ عَائِشَةُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ ؟ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَشْيَخَةَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهَا عَنِ الْفَرَائِضِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے دریافت کیا گیا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو علم وراثت کا بھی پتہ تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علم وراثت کے بارے میں احکام دریافت کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15317
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَعْلَمَ بِطِبٍّ ، وَلَا بِفِقْهٍ ، وَلَا بِشِعْرٍ مِنْ عَائِشَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو علم طب ، علم فقہ اور شاعری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم رکھتی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔
حدیث نمبر: 15318
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيهِنَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَكْثَرَ مِنْ عِلْمِهِنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو علم طب ، علم فقہ اور شاعری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم رکھتی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔
حدیث نمبر: 15319
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ خَطِيبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْصَحَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اللہ کی قسم ! میں نے کبھی کوئی ایسا خطیب نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح اور سمجھ دار ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15320
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ خُطْبَتُهَا فِي مَنَاقِبِ أَبِيهَا . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ان کے والد کے مناقب سے متعلق باب میں ان کے خطبے کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ان کے والد کے مناقب سے متعلق باب میں ان کے خطبے کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 15321
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا هِبْتُ الْكَلَامَ عِنْدَ أَحَدٍ هَيْبَتِي عِنْدَ عَائِشَةَ ، وَمَا سَمِعْتُ كَلَامَهَا إِلَّا ذَكَرْتُ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ [الْكَلْبِيُّ] ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! میں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اتنا ہیبت زدہ نہیں ہوتا ، جتنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہ کر ہیبت زدہ ہوتا ہوں ، میں نے جب بھی ان کی گفتگو سنی ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام یاد آ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 15322
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : كُلُّ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَائِشَةَ ، قُلْتُ لَهُ : أَمَّا أَنْتَ فَقَدَ خَالَفْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; هِيَ كَانَتْ أَحَبَّهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے کہا: میرے نزدیک تمام امہات المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبوب ہیں ، تو میں نے اس سے کہا: تم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف کیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمام امہات المؤمنین سے زیادہ محبوب تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15323
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَتْ : فِي الْبَيْتِ يُوحَى إِلَيْهِ ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئی ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا گھر کے اندر ہیں ، اور آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے ، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، میں وہاں ٹھہری رہی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے عائشہ ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15324
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15325
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ عَائِشَةَ تُفَضَّلُ عَلَى النِّسَاءِ كَمَا يُفَضَّلُ الثَّرِيدُ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن سعد نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15326
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15327
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ ، وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ " . ¤ فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيَسُرُّكِ دُعَائِي ؟ " . فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ ؟ فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے ، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو عائشہ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے اور جو اس نے پوشیدہ طور پر کیا یا جو اعلانیہ طور پر کیا ( اس کی بھی مغفرت کر دے ) ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں ، یہاں تک کہ ہنسنے کی شدت کی وجہ سے ان کا سر ان کی گود میں آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے ، انہوں نے جواب دیا : کیا وجہ ہے مجھے آپ کی دعا کیوں اچھی نہ لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15328
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [أَنَّهُ]قَالَ [لَهَا]: " ¤ إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي ، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ شعر کہا: ” آپ کا نام اُم المؤمنین رکھا گیا ہے تاکہ آپ کی سعادت ظاہر ہوا اور آپ کا یہ نام آپ کی پیدائش سے پہلے تجویز کر دیا گیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔