حدیث نمبر: 15330
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ ! إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ وَرَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي ، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لَا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو وہ رو رہی تھیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں روتی ہو ؟ شاید اللہ کے رسول نے نہیں طلاق دے دی ہے ، اللہ کے رسول نے پہلے بھی تمہیں طلاق دی تھی اور میری وجہ سے تم سے رجوع کر لیا تھا ، اللہ کی قسم ! اگر اب انہوں نے تمہیں طلاق دے دی تو میں تمہارے ساتھ کبھی کوئی بات نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15330
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1502) اخرجه أبو يعلى فى المسند (172) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/23)»