عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : وَضَّأْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ تَعُودُهَا ؟ " . فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ ثِقْلَهَا غَيْرُكَ وَيَكُونُ أَجْرُهَا لَكَ " . قَالَ : فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكِ ؟ " . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَدَّ حُزْنِي ، وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي ، وَطَالَ سَقَمِي . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : قَالَ : " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا ، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا ، وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروا رہا تھا ، آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم فاطمہ کی عیادت کے لئے جاؤ ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ٹیک لگا کے اٹھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب اس کا بوجھ تمہارے علاوہ اور اٹھائے گا ، اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ، راوی کہتے ہیں : یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مجھ پر کوئی چیز نہیں ہے ، یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میری پریشانی شدید ہو چکی ہے ، میرا فاقہ طویل ہو چکا ہے ، میری بیماری طویل ہو چکی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی تحریر میں ان کے ہاتھ کے ساتھ یہ حدیث لکھی ہوئی پائی ہے کہ جس میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے ، جو میری امت میں اسلام قبول کرنے میں سب سے پہلے ہے ، علم میں سب سے زیادہ ہے ، اور بردباری کے حوالے سے سب سے بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ : أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : زَوَّجْتَنِيهِ أُعَيْمِشَ ، عَظِيمَ الْبَطْنِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ زَوَّجْتُكِهِ وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ أَصْحَابِي سِلْمًا ، وَأَكْثَرُهُمْ عِلْمًا ، وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : آپ نے میری شادی ایک ایسے شخص سے کر دی ہے ، جس کی نظر کمزور ہے ، اور پیٹ بڑھا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے ، جو اسلام قبول کرنے میں میرا سب سے پہلا ساتھی ہے ، علم کے اعتبار سے ان سب میں زیادہ ہے ، اور حلم کے اعتبار سے ان سب میں بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ وَسَلْمَانَ قَالَا : أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي ، وَهَذَا أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهَذَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، وَهَذَا فَارُوقُ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَهَذَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الظَّالِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَحْدَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي " . وَقَالَ فِيهِ : " وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْكُفَّارِ " . ¤ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” یہ مجھ پر ایمان لانے والا سب سے پہلا فرد ہے ، اور قیامت کے دن یہ سب سے پہلے میرے ساتھ مصافحہ کرے گا ، یہ صدیق اکبر ہے ، یہ اس امت کا فاروق ہے ، جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرے گا ، یہ مومنین کا امیر ہے ، اور مال ظالموں کا امیر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے صرف سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم مجھ پر ایمان لانے والے سب سے پہلے فرد ہو ۔ “ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” مال کافروں کا امیر ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمرو بن سعید مصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے صرف سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم مجھ پر ایمان لانے والے سب سے پہلے فرد ہو ۔ “ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” مال کافروں کا امیر ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمرو بن سعید مصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السُّبَّقُ ثَلَاثَةٌ : السَّابِقُ إِلَى مُوسَى يُوشَعُ بْنُ نُونٍ ، وَالسَّابِقُ إِلَى عِيسَى صَاحِبُ يَاسِينَ ، وَالسَّابِقُ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سبقت لے جانے والے افراد تین ہیں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے یوشع بن نون ہیں ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے یٰسین کے ساتھی ہیں ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سبقت لے جانے والا علی بن ابوطالب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے ۔
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وُرُودًا عَلَى نَبِيِّهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلُهَا إِسْلَامًا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس اُمت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( قیامت کے دن ) سب سے پہلے جانے والا فرد وہ ہو گا جو اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے سب سے پہلا ہے ، اور وہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے فرد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان جزری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان جزری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَضْحَكُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ، ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ [ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ ] ، وَلَكِنْ [ وَاللَّهِ ] لَا تَعْلُونِيَ اسْتِي أَبَدًا ، فَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ [ أَنَّ ] عَبْدًا [ لَكَ ] مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حبہ عرنی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ منبر پر ہنس پڑے ، میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی اس سے زیادہ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، یہاں تک کہ ان کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، پھر انہوں نے بتایا : مجھے جناب ابوطالب کی بات یاد آ گئی ، ایک مرتبہ جناب ابوطالب ہمارے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم دونوں بطن نخلہ میں نماز ادا کر رہے تھے ، جناب ابوطالب نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! تم دونوں کیا کر رہے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جناب ابوطالب نے کہا: تم دونوں جو کر رہے ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم دونوں جو کہہ رہے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! تم مجھ سے میرے سرین بھی نہیں اٹھوا سکتے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر حیران ہوئے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے نبی کے علاوہ مجھ سے پہلے اس امت میں سے تیرے کسی اور بندے نے تیری عبادت کی ہو ۔ “ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ( اور پھر یہ بات بیان کی : ) میں نے دیگر لوگوں کے نماز ادا کرنے سے سات پہلے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَأَسْلَمْتُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیر کے دن مبعوث کیا گیا ، اور میں نے منگل کے دن اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ وَغَيْرِهِ قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے فرد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ، اس وقت ان کی عمر پندرہ یا شاید سولہ برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَسْلَمَ عَلِيٌّ ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو ان کی عمر آٹھ سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ وَقَالَ : كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْهُ بَعْضَ التِّجَارَةِ ، وَكَانَ امْرَأً تَاجِرًا قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُ بِمِنًى إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَاءٍ قَرِيبٍ مِنْهُ إِذْ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ [ يَعْنِي ] - قَامَ يُصَلِّي - . ثُمَّ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْهُ ، فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي ، ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ نَاهَزَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ ، فَقَامَ مَعَهُ يُصَلِّي قَالَ : فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ : يَا عَبَّاسُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدُ ابْنُ أَخِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ ؟ قَالَ : هَذِهِ امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ . قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا الْفَتَى ؟ قَالَ : هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ ؟ قَالَ : يُصَلِّي ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَابْنُ عَمِّهِ هَذَا الْفَتَى ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَتُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ . ¤ قَالَ : فَكَانَ عَفِيفٌ - وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - يَقُولُ - وَأَسْلَمَ بَعْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ - : لَوْ كَانَ اللَّهُ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ يَوْمَئِذٍ فَأَكُونُ ثَانِيًا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ . ¤
محمد محی الدین
عفیف کندی بیان کرتے ہیں : میں ایک تاجر شخص تھا ، میں مکہ آیا ، میں جناب عباس بن عبدالمطلب کے پاس آیا تاکہ ان سے تجارت کا کچھ سامان خریدوں کیونکہ وہ بھی ایک تاجر شخص تھے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں منیٰ میں ان کے پاس موجود تھا ، اسی دوران وہاں قریب موجود ایک خیمے میں سے ایک شخص نکلا ، اس نے آسمان کی طرف دیکھا ، جب اس نے دیکھا کہ سورج ڈھل چکا ہے ، تو وہ کھڑا ہو کے نماز ادا کرنے لگا ، پھر اس خیمے میں سے ایک خاتون نکلی ، یہ وہی خیمہ تھا جس میں سے وہ مرد نکلا تھا ، وہ خاتون مرد کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کرنے لگی ، پھر ایک لڑکا نکلا ، وہ بھی اسی خیمے سے نکلا تھا ، اور وہ قریب البلوغ تھا اور وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، میں نے جناب عباس سے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ محمد ہے ، جو میرے بھائی عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ عورت کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ لڑکا کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ علی بن ابوطالب ہے ، جو اس کا چچا زاد ہے ، میں نے عرض کی : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ نماز پڑھ رہے ہیں ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں اور ابھی ان کی پیروی صرف ان کی بیوی نے یا ان کے اس نوجوان چچازاد نے کی ہے ، اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے لئے کسریٰ و قیصر کے خزانے کھول دیے جائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : عفیف نامی شخص اشعث بن قیس کا چچازاد تھا ۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، ان صاحب کا اسلام اچھا ہوا ، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ اس دن مجھے اسلام عطا کر دیتا تو میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے والا دوسرا فرد ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اسی طرح ہے وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اسی طرح ہے وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَصَلَّتْ خَدِيجَةُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ ، وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، فَمَكَثَ عَلِيٌّ يُصَلِّي مُسْتَخْفِيًا سَبْعَ سِنِينَ وَأَشْهُرًا قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحُمَيْدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دن نماز ادا کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آخری حصے میں نماز ادا کی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منگل کے دن نماز ادا کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات سال تک اور چند مہینوں تک پوشیدہ طور پر نماز ادا کرتے رہے ، یہ کسی کے بھی نماز ادا کرنے سے پہلے کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے والا پہلا فرد ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حبہ عرنی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حبہ عرنی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيٌّ . قَالَ عَمْرٌو : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَنْكَرَهُ ، وَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے والے سب سے پہلے فرد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی کے سامنے کیا ، تو انہوں نے انکار کیا اور بولے : وہ پہلے فرد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : نُبِّئَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن مبعوث ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منگل کے دن اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن ابورافع ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن ابورافع ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔