حدیث نمبر: 14601
وَعَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَضْحَكُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ، ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ [ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ ] ، وَلَكِنْ [ وَاللَّهِ ] لَا تَعْلُونِيَ اسْتِي أَبَدًا ، فَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ [ أَنَّ ] عَبْدًا [ لَكَ ] مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

حبہ عرنی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ منبر پر ہنس پڑے ، میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی اس سے زیادہ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، یہاں تک کہ ان کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، پھر انہوں نے بتایا : مجھے جناب ابوطالب کی بات یاد آ گئی ، ایک مرتبہ جناب ابوطالب ہمارے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم دونوں بطن نخلہ میں نماز ادا کر رہے تھے ، جناب ابوطالب نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! تم دونوں کیا کر رہے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جناب ابوطالب نے کہا: تم دونوں جو کر رہے ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم دونوں جو کہہ رہے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! تم مجھ سے میرے سرین بھی نہیں اٹھوا سکتے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر حیران ہوئے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے نبی کے علاوہ مجھ سے پہلے اس امت میں سے تیرے کسی اور بندے نے تیری عبادت کی ہو ۔ “ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ( اور پھر یہ بات بیان کی : ) میں نے دیگر لوگوں کے نماز ادا کرنے سے سات پہلے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2520) اخرجه أبو يعلى فى المسند (447) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (776)»