مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ إِسْلَامِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السُّبَّقُ ثَلَاثَةٌ : السَّابِقُ إِلَى مُوسَى يُوشَعُ بْنُ نُونٍ ، وَالسَّابِقُ إِلَى عِيسَى صَاحِبُ يَاسِينَ ، وَالسَّابِقُ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سبقت لے جانے والے افراد تین ہیں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے یوشع بن نون ہیں ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سبقت لے جانے والے یٰسین کے ساتھی ہیں ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سبقت لے جانے والا علی بن ابوطالب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے ۔