کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کنیت کا بیان
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - نَائِمٌ فِي التُّرَابِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَحَقَّ أَسْمَائِكَ أَبُو تُرَابٍ ، أَنْتِ أَبُو تُرَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم نے ان کے سر کی طرف نہیں دیکھا جو طشت کی مانند تھا اور اس کے اردگرد کا حصہ خفاف کی مانند تھا ( یعنی سر کے درمیانی حصے میں بال نہیں تھے اور اطراف میں بال تھے ) ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14593
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (779)»
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّى عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِأَبِي تُرَابٍ فَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ كُنَاهُ إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي وَفَاتِهِ وَقَاتِلِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوتراب تجویز کی تھی اور یہ کنیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قاتل سے متعلق باب میں آئے گی ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2558)»