عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - نَائِمٌ فِي التُّرَابِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَحَقَّ أَسْمَائِكَ أَبُو تُرَابٍ ، أَنْتِ أَبُو تُرَابٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ مٹی پر سوئے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ موزوں نام ابوتراب ہے ، تم ابوتراب ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّى عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِأَبِي تُرَابٍ فَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ كُنَاهُ إِلَيْهِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي وَفَاتِهِ وَقَاتِلِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي وَفَاتِهِ وَقَاتِلِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوتراب تجویز کی تھی اور یہ کنیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قاتل سے متعلق باب میں آئے گی ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قاتل سے متعلق باب میں آئے گی ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔