حدیث نمبر: 14595
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : وَضَّأْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ تَعُودُهَا ؟ " . فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ ثِقْلَهَا غَيْرُكَ وَيَكُونُ أَجْرُهَا لَكَ " . قَالَ : فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكِ ؟ " . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَدَّ حُزْنِي ، وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي ، وَطَالَ سَقَمِي . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : قَالَ : " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا ، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا ، وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروا رہا تھا ، آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم فاطمہ کی عیادت کے لئے جاؤ ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ٹیک لگا کے اٹھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب اس کا بوجھ تمہارے علاوہ اور اٹھائے گا ، اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ، راوی کہتے ہیں : یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مجھ پر کوئی چیز نہیں ہے ، یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میری پریشانی شدید ہو چکی ہے ، میرا فاقہ طویل ہو چکا ہے ، میری بیماری طویل ہو چکی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی تحریر میں ان کے ہاتھ کے ساتھ یہ حدیث لکھی ہوئی پائی ہے کہ جس میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے ، جو میری امت میں اسلام قبول کرنے میں سب سے پہلے ہے ، علم میں سب سے زیادہ ہے ، اور بردباری کے حوالے سے سب سے بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (26/5)»