کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے “
حدیث نمبر: 14610
عَنْ رَبَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحْبَةِ قَالُوا : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا ، فَقَالَ : كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ ؟ قَالُوا : سَمِعَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ " . ¤ قَالَ رَبَاحٌ : فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالُوا : نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالُوا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ وَهَذَا أَبُو أَيُّوبَ بَيْنَنَا ، فَحَسِرَ أَبُو أَيُّوبَ الْعِمَامَةَ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
رباح بن حارث بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ رحبہ کے مقام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : آپ پر سلام ہو ، اے ہمارے مولیٰ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارا مولیٰ کیسے ہو سکتا ہوں ؟ جبکہ تم لوگ عرب ہو تو ان لوگوں نے بتایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ رباح کہتے ہیں جب وہ لوگ چلے گئے ، تو میں ان کے پیچھے گیا ۔ میں نے دریافت کیا : یہ لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ انصار سے تعلق رکھنے والے افراد تھے جن میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ان لوگوں نے بتایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ان لوگوں نے بتایا : یہاں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے عمامہ ہٹایا اور پھر انہوں نے یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ان لوگوں نے بتایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ان لوگوں نے بتایا : یہاں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے عمامہ ہٹایا اور پھر انہوں نے یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14611
وَعَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَأَعِنْ مَنْ أَعَانَهُ " . ¤ قُلْتُ : لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ عَنْ زَيْدٍ وَحْدَهُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ : خُمٌّ ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ : فَخَطَبَ وَظَلَّلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَجَرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ - أَوْ أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ - أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمروذی مر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں بیان کرتے ہیں : غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، جو شخص اس کی مدد کرے ، تو اس کی مدد کرنا ، جو شخص اس کی اعانت کرے ، تو اس کی اعانت کرنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا زید بن ارقم کی نقل کردہ حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جس میں صرف یہ الفاظ ہیں : ” میں جس کا مولیٰ ہو ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے صرف سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک وادی میں پڑاؤ کیا جس کا نام خم تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں حکم دیا ، آپ نے نماز جلدی ادا کر لی ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک درخت کے ذریعے سایہ موجود تھا جو دھوپ سے بچنے کے لئے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کو امام بزار نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے صرف سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک وادی میں پڑاؤ کیا جس کا نام خم تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں حکم دیا ، آپ نے نماز جلدی ادا کر لی ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک درخت کے ذریعے سایہ موجود تھا جو دھوپ سے بچنے کے لئے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کو امام بزار نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14612
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : جَمَعَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ لَمَا قَامَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ . ¤ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : " أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ كَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ : فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رحبہ کے مقام پر ( یا کھلے میدان میں ) جمع کیا اور پھر ان سے فرمایا : میں ہر اس مسلمان شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن ایک بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : تو تیس افراد ان کے سامنے کھڑے ہوئے ، ابونعیم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں نے یہ بات گواہی دے کر بیان کی ، جب انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ) یہ ارشاد فرمایا تھا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو میں جس کا مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو شخص اس سے محبت رکھتا ہو ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو شخص اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا میرے من میں کچھ الجھن تھی ، میری ملاقات سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تمہیں کس بات پر اعتراض ہے ؟ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14613
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - النَّاسَ ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے پانچ یا چھ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14614
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ ذِي مُرٍّ ، وَسَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالُوا : سَمِعْنَا عَلِيًّا يَقُولُ : نَشَدْتُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَا قَامَ ، فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ ، وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن ذی مر اور سعید بن وہب اور زید بن یثیع کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، یہ حضرات بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : وہ کھڑا ہو جائے تو تیرہ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : کیا میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں رسول اللہ ! راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، جو اس سے بغض رکھے ، تو اس سے بغض رکھنا ، جو اس کی مدد کرے ، تو اس کی مدد کرنا ، جو اسے رسوا کرنے کی کوشش کرے ، تو اسے رسوا کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14615
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ يُنَاشِدُ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيَّ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . لَمَا قَامَ فَشَهِدَ . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ عَلَيْهِ سَرَاوِيلُ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب وہ رحبہ میں تھے ( یہ کسی جگہ کا نام ہے یا شاید اس سے مراد کھلی جگہ ہے ) انہوں نے لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ میں اس شخص کو واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ تو ایسا شخص کھڑا ہو اور اس بات کی گواہی دے ، عبدالرحمن نامی راوی کہتے ہیں : تو بارہ بدری صحابہ کرام کھڑے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ انہوں نے شلوار پہنی ہوئی تھی ، ان لوگوں نے یہ بات بیان کی کہ ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کیا میں مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں اور میری بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اسے عبداللہ بن أحمد نے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اسے عبداللہ بن أحمد نے بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14616
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشَّجَرَاتِ فَقُمَّ مَا تَحْتَهَا وَرُشَّ ، ثُمَّ خَطَبَنَا ، فَوَاللَّهِ مَا مِنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى يَوْمِ السَّاعَةِ إِلَّا قَدْ أَخْبَرَنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْلَى بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا قَالَ : " فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ " . يَعْنِي عَلِيًّا ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَبَسَطَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے بارے میں حکم دیا ، تو ان کے نیچے جھاڑو دی گئی ، وہاں پانی چھڑکا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا : اللہ کی قسم ! قیامت قائم ہونے تک جو کچھ بھی ہونا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتا دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کون تمہارے جان سے زیادہ تمہارے قریب ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہماری جان سے زیادہ ہمارے قریب ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا میں مولیٰ ہوں ، یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے پھیلایا اور پھر فرمایا : ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خلاد انصاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے امام بزار نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خلاد انصاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے امام بزار نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 14617
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ؟ . قَالَ : فَقَالَ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رَجُلٌ غَيْرُ مُسَمًّى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ فِي الْآخَرِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
داؤد بن یزید اؤدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہو گئے ، ایک نوجوان اٹھ کر ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14618
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسَلِّمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب مسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب مسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14619
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ؟ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا ، فَشَهِدُوا بِذَلِكَ ، وَكُنْتُ فِيمَنْ كَتَمَ فَذَهَبَ بَصَرِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ خَالِيًا مِنْ ذَهَابِ الْبَصَرِ وَالْكِتْمَانِ وَدُعَاءِ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کیا ، انہوں نے ہر اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیا ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو بارہ بدری صحابہ کرام کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی ( سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں : ) میں ان افراد میں سے ایک تھا جس نے اس بات کو چھپایا تھا ، تو میری بینائی رخصت ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ معجم اوسط میں انہوں نے بینائی رخصت ہونے اور بات کو چھپانے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دعا کا تذکرہ نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ معجم اوسط میں انہوں نے بینائی رخصت ہونے اور بات کو چھپانے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دعا کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 14620
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : وَكَانَ عَلِيٌّ دَعَا عَلَى مَنْ كَتَمَ . ¤ وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے خلاف دعائے ضرر کی تھی جو اس بات کو چھپائے ۔ معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14621
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14622
وَعَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَأَعِنْ مَنْ أَعَانَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! جس کا میں مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا اور جو اس کی مدد کرے ، تو اس کی مدد کرنا ، اور جو اس کی اعانت کرے ، تو اس کی اعانت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14623
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : شَهِدْنَا الْمَوْسِمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَلَغْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ : غَدِيرُ خُمٍّ ، فَنَادَى : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعْنَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَطَنَا فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، بِمَ تَشْهَدُونَ " . قَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : " ثُمَّ مَهْ ؟ " . قَالُوا : وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : " فَمَنْ وَلِيُّكُمْ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَانَا قَالَ : " مَنْ وَلِيُّكُمْ ؟ " . ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى عَضُدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَقَامَهُ ، فَنَزَعَ عَضُدُهُ فَأَخَذَ بِذِرَاعَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ مِنَ النَّاسِ فَكُنْ لَهُ حَبِيبًا ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَكُنْ لَهُ مُبْغِضًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ أَحَدًا أَسَتَوْدِعُهُ فِي الْأَرْضِ بَعْدَ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ غَيْرَكَ ; فَاقْضِ لَهُ بِالْحُسْنَى " . ¤ قَالَ بِشْرٌ : قُلْتُ : مَنْ هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم ایک جگہ پہنچے جسے غدیر خم کہا: جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، یعنی ہم مہاجرین اور انصار اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس بات کی کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہمارے مولیٰ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ولی کون ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بازو پر رکھا ، انہیں کھڑا کیا ، پھر ان کے بازو کو چھوڑا اور ان کی کلائی کو پکڑ لیا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ اور اس کا رسول جس کے مولیٰ ہوں ، تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، اے اللہ ! لوگوں میں سے جو شخص اس سے محبت رکھے ، تو اس شخص کے لئے محبت کرنے والا ہو جانا ، اور جو شخص اس سے بغض رکھے ، تو اس کے لئے غصہ کرنے والا ہو جانا ، اے اللہ ! دو نیک لوگوں کے بعد مجھے تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ملتا ، زمین میں اس کو میں جس کے سپرد کروں ، تو اس کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ دینا ۔ “ بشر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : وہ دو نیک بندے کون تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14624
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَنْشُدُ النَّاسَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ لَمَا قَامَ . فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو سنا : انہوں نے لوگوں کو واسطہ دے کر فرمایا : میں اس مسلمان شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے دن وہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، جو آپ نے کھڑے ہو کر ارشاد فرمائی تھی ، تو بارہ بدری صحابہ کرام کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14625
وَعَنْ نَذِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ يَوْمَ الْجَمَلِ لِطَلْحَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ؟ . قَالَ : بَلَى ، فَذَكَرَ وَانْصَرَفَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَنَذِيرٌ تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنُهُ . ¤
محمد محی الدین
نذیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے طلحہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ، انہیں یہ بات یاد آئی تو وہ واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور نذیر نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اس کا بیٹا منفرد ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور نذیر نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اس کا بیٹا منفرد ہے ۔
حدیث نمبر: 14626
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ مَنْ كُنْتُ وَلَيُّهُ فَإِنَّ عَلِيًّا وَلَيُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” کیا میں مومنین کے نزدیک ان کی اپنی جانوں سے زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ جس شخص کا میں ولی ہوں ، تو علی بھی اس شخص کا ولی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14627
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ : مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ . قَالَ : فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سَبْعَةٌ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لِعَلِيٍّ : " أَلَيْسَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَقَالَ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، لَا عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ كَمَا هُنَا ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْوَاوَ سَقَطَتْ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن وہب اور زید بن یثیع بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رحبہ کے مقام پر لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا کہ جس شخص نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، وہ کھڑا ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : سعید بن وہب والی طرف میں چھ افراد کھڑے ہوئے اور زید بن یثیع والی طرف میں سات افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ ان لوگوں نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : کیا میں مومنین کے نزدیک زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! جس کا میں مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، لیکن اس سے زیادہ مکمل طور پر اسے نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب اور زید بن یثیع کے حوالے سے منقول ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جبکہ عبداللہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب کے حوالے سے زید بن یثیع سے منقول ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں واؤ رہ گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، لیکن اس سے زیادہ مکمل طور پر اسے نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب اور زید بن یثیع کے حوالے سے منقول ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جبکہ عبداللہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب کے حوالے سے زید بن یثیع سے منقول ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں واؤ رہ گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14628
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ قَالَ : وَزَادَ الرَّاوُونَ بَعْدُ : " وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا میں مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : راویوں نے اس کے بعد یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تو اس سے محبت رکھنا ، جو اس سے محبت رکھے ، اور تو اس سے دشمنی رکھنا ، جو اس سے دشمنی رکھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14629
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : اسْتَشْهَدَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - النَّاسَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . قَالَ : فَقَامَ سِتَّةَ عَشَرَ ، فَشَهِدُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَشِيرَ بْنَ سَلْمَانَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ موجود تھے ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! جس کا میں مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سولہ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ یہ بشیر بن سلیمان ہو سکتا ہے ، اگر تو یہ وہ ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ یہ بشیر بن سلیمان ہو سکتا ہے ، اگر تو یہ وہ ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14630
وَعَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسُ : مَنْ شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ ؟ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ [ رَجُلًا ] ، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
زاذان ابوعمر بیان کرتے ہیں : میں رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ کون شخص اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ؟ راوی کہتے ہیں : تو تیرہ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14631
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عُمَارَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ - وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عَلِيٍّ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحُمَيْدٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
حمید بن عمارہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور حمید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور حمید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14632
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایک حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ایک حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14633
عَنْ عُمَيْرَةَ بِنْ سَعْدٍ قَالَتْ : شَهِدْتُ عَلِيًّا عَلَى الْمِنْبَرِ نَاشَدَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَوْمَ غَدِيرِ خَمٍّ ]يَقُولُ مَا قَالَ فَيَشْهَدُ ؟ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، مِنْهُمْ : أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیرہ بن سعد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب انہوں نے منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ جس نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، وہ اس بات کی گواہی دے ، تو بارہ افراد کھڑے ہوئے ، جن میں سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے ، اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 14634
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ عَلِيًّا جَمَعَ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " ؟ . فَقَامَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیرہ بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رحبہ ( کھلے میدان ) میں جمع کیا ، میں وہاں موجود تھا ، انہوں نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اٹھارہ افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14635
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14636
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14637
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : " هَذَا وَلِيِّي وَأَنَا وَلِيُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا : ” یہ میرا ولی ہے ، اور میں اس کا ولی ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14638
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سِرِيَّةٍ ، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا عَلِيًّا ، فَلَمَّا جِئْنَا قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَاحِبَكُمْ ؟ " . فَإِمَّا شَكْوَتُهُ وَإِمَّا شَكَاهُ غَيْرِي قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا ، فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ " . فَقُلْتُ : لَا أَسُوءُكَ فِيهِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو ایک جنگی مہم پر بھیجا ، آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا ، جب ہم لوگ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اپنے متعلقہ فرد کو کیسا پایا ؟ راوی کہتے ہیں : تو شاید میں نے ان کی شکایت کی یا میرے علاوہ کسی اور نے ان کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا ، میں ایک ایسا شخص تھا ، جو زیادہ تر زمین کی طرف نظر رکھتا تھا ( جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا ، تو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا میں ولی ہوں ، تو علی بھی اس کا ولی ہے ۔ “ تو میں نے کہا: اب میں اُن کے بارے میں ، میں دوبارہ کبھی بھی ، آپ کو کوئی بات بری نہیں لگنے دوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14639
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَحْيَا حَيَاتِي ، وَيَمُوتَ مَمَاتِي ، وَيَسْكُنَ جَنَّةَ الْخُلْدِ الَّذِي وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - غَرَسَ قُضْبَانَهَا بِيَدِهِ ; فَلْيَتَوَلَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ هُدًى ، وَلَنْ يُدْخِلَكُمْ فِي ضَلَالَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن مطرف نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور بعض اوقات وہ اس میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ میری حیات کے مطابق زندگی بسر کرے اور میری موت کے مطابق مرے اور اس جنت الخلد میں سکونت اختیار کرے ، جس کا میرے پروردگار نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے وہاں کے پودے بوئے ، تو اسے علی بن ابوطالب سے محبت رکھنی چاہیے ، کیونکہ وہ تمہیں ہدایت سے نکالے گا نہیں ، اور وہ تمہیں گمراہی میں داخل نہیں کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے ، اور بعض اوقات وہ اس میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ میری حیات کے مطابق زندگی بسر کرے اور میری موت کے مطابق مرے اور اس جنت الخلد میں سکونت اختیار کرے ، جس کا میرے پروردگار نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے وہاں کے پودے بوئے ، تو اسے علی بن ابوطالب سے محبت رکھنی چاہیے ، کیونکہ وہ تمہیں ہدایت سے نکالے گا نہیں ، اور وہ تمہیں گمراہی میں داخل نہیں کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14640
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُوصِي مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي بِوِلَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، مَنْ تَوَلَّاهُ فَقَدْ تَوَلَّانِي ، وَمَنْ تَوَلَّانِي فَقَدْ تَوَلَّى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ تَعَالَى ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحْسَنُهَا فِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس شخص کو یہ تلقین کرتا ہوں ، جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے ، اور میری تصدیق کرتا ہے ، وہ علی بن ابوطالب سے ولاء ( یعنی دوستی ) رکھے ، جو شخص اس سے ولاء رکھے گا ، وہ مجھ سے ولاء رکھے گا ، اور جو مجھ سے ولاء رکھے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے ولاء رکھے گا ، جو شخص اُس سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو مجھ سے محبت رکھے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھے گا ، جو اس سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، اور جو مجھ سے بغض رکھے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے زیادہ بہتر سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت موجود ہے جن کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے زیادہ بہتر سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت موجود ہے جن کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14641
وَعَنْ وَهْبِ بْنِ حَمْزَةَ قَالَ : صَحِبْتُ عَلِيًّا [ مِنَ الْمَدِينَةِ ] إِلَى مَكَّةَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ بَعْضَ مَا أَكْرَهُ ، فَقُلْتُ : لَئِنْ رَجَعْتُ لَأَشْكُوَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمْتُ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : رَأَيْتُ مِنْ عَلِيٍّ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " لَا تَقُلْ هَذَا ; فَهُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِكُمْ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دُكَيْنٌ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
وہب بن حمزہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ سے مکہ تک کے راستے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے ان کی طرف سے چند ایسی چیزیں دیکھیں جو مجھے اچھی نہیں لگیں ، تو میں نے کہا: جب میں واپس جاؤں گا ، تو میں آپ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کروں گا ، جب میں آیا اور میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، تو میں نے عرض کی : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ یہ چیزیں دیکھی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یہ بات نہ کہو کیونکہ میرے بعد وہ تم لوگوں کے سب سے زیادہ قریب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دکین ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس کو ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دکین ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس کو ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔