حدیث نمبر: 14605
وَعَنْ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ وَقَالَ : كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْهُ بَعْضَ التِّجَارَةِ ، وَكَانَ امْرَأً تَاجِرًا قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُ بِمِنًى إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَاءٍ قَرِيبٍ مِنْهُ إِذْ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ [ يَعْنِي ] - قَامَ يُصَلِّي - . ثُمَّ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْهُ ، فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي ، ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ نَاهَزَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ ، فَقَامَ مَعَهُ يُصَلِّي قَالَ : فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ : يَا عَبَّاسُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدُ ابْنُ أَخِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ ؟ قَالَ : هَذِهِ امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ . قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا الْفَتَى ؟ قَالَ : هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ ؟ قَالَ : يُصَلِّي ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَابْنُ عَمِّهِ هَذَا الْفَتَى ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَتُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ . ¤ قَالَ : فَكَانَ عَفِيفٌ - وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - يَقُولُ - وَأَسْلَمَ بَعْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ - : لَوْ كَانَ اللَّهُ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ يَوْمَئِذٍ فَأَكُونُ ثَانِيًا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ . ¤
محمد محی الدین

عفیف کندی بیان کرتے ہیں : میں ایک تاجر شخص تھا ، میں مکہ آیا ، میں جناب عباس بن عبدالمطلب کے پاس آیا تاکہ ان سے تجارت کا کچھ سامان خریدوں کیونکہ وہ بھی ایک تاجر شخص تھے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں منیٰ میں ان کے پاس موجود تھا ، اسی دوران وہاں قریب موجود ایک خیمے میں سے ایک شخص نکلا ، اس نے آسمان کی طرف دیکھا ، جب اس نے دیکھا کہ سورج ڈھل چکا ہے ، تو وہ کھڑا ہو کے نماز ادا کرنے لگا ، پھر اس خیمے میں سے ایک خاتون نکلی ، یہ وہی خیمہ تھا جس میں سے وہ مرد نکلا تھا ، وہ خاتون مرد کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کرنے لگی ، پھر ایک لڑکا نکلا ، وہ بھی اسی خیمے سے نکلا تھا ، اور وہ قریب البلوغ تھا اور وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، میں نے جناب عباس سے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ محمد ہے ، جو میرے بھائی عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ عورت کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ لڑکا کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ علی بن ابوطالب ہے ، جو اس کا چچا زاد ہے ، میں نے عرض کی : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ نماز پڑھ رہے ہیں ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں اور ابھی ان کی پیروی صرف ان کی بیوی نے یا ان کے اس نوجوان چچازاد نے کی ہے ، اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے لئے کسریٰ و قیصر کے خزانے کھول دیے جائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : عفیف نامی شخص اشعث بن قیس کا چچازاد تھا ۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، ان صاحب کا اسلام اچھا ہوا ، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ اس دن مجھے اسلام عطا کر دیتا تو میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے والا دوسرا فرد ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اسی طرح ہے وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1547) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (100/18) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1787)»