کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ : هْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقْحَةً فَحَلَبْتُهَا ، فَلَمَّا أَخَذْتُ لِأُجْهِدَهَا قَالَ : " لَا تَفْعَلْ ، دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : " دَعْ دَوَاعِيَ اللَّبَنِ وَدَعْ لِي " . بِأَسَانِيدَ وَرِجَالٍ أَحُدُهَا رِجَالٌ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ والی ایک اونٹنی تحفہ دی ، راوی کہتے ہیں : میں اس کا دودھ دوہنے لگا ، جب میں اسے مشقت کا شکار کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا نہ کرو ! دودھ کے داعی کو رہنے دو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : ” دودھ کے دواعی کو چھوڑ دو ، اور میرے لئے چھوڑ دو ۔ “
یہ روایت انہوں نے مختلف روایات کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے ایک سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8127) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (276/4)»
وَعَنْ نُقَادَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا نُقَادَةُ ، ابْغِنِي نَاقَةً حَلْبَانَةً رَكْبَانَةً غَيْرَ أَنْ لَا تُوَلِّدَ وَالِدَةً " . قَالَ : فَجِئْتُ فَبَغَيْتُهَا فِي نَعَمٍ فَلَمْ أَجِدْ نَاقَةً مَرِيًّا ذَلُولًا وَوَجَدْتُهَا فِي نَعَمِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، فَقَدِمْتُ بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا نُقَادَةُ ، أَبْقِ دَوَاعِيَ الدَّرِّ " أَوْ قَالَ : " دَوَاعِيَ اللَّبَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے نقادہ ! میرے لئے ایسی اونٹنی تلاش کرو ، جو دودھ دینے والی ہو ، اور اس پر سواری بھی کی جا سکے اور اس کے ہاں بچہ نہ ہوا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں آیا ، میں نے اسے جانوروں میں تلاش کیا ، تو مجھے ایسی کوئی اونٹنی نہیں ملی جو دودھ والی بھی ہو اور فرمانبردار بھی ہو ( یا جس پر سواری بھی کی جا سکے ) پھر مجھے اپنے چچا زاد کے اونٹوں میں ایسی اونٹنی مل گئی ، میں اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے نقادہ ! تھن کے دواعی کو باقی رہنے دو ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دودھ کے دواعی کو باقی رہنے دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13741
درجۂ حدیث محدثین: وقال الطبراني : « لا يروى عن نُقادة إلا بهذا الإسناد ، تفرد به إبراهيم بن محمد الفروي »
وَفِي رِوَايَةٍ : بَعَثَ عَمِّي بِلَقُوحٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِيَ : " احْلِبْهَا " . فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ : " يَا نُقَادَةَ ، دَعْ دَوَاعِيَ اللَّبَنِ " . قَالَ : فَتَرَكْتُ أَخْلَاقَهَا قَائِمَةً لَمْ تَنْفُضِ اللَّبَنَ كُلَّهُ . وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الْأُولَى : إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الثَّانِيَةِ : يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَجَمَاعَةٌ لَا يُعْرَفُونَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میرے چچا نے کچھ اونٹنیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان کا دودھ دوہ لو ! میں نے ان کا دودھ دوہ لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نقادہ ! دودھ کے دواعی کو چھوڑ دینا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اس کے تھن یوں چھوڑے کہ ان میں سے سارا ہی دودھ نکال نہیں لیا گیا تھا ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق فروی ہے ، اور وہ متروک ہے ، دوسری کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ، اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13742
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ يَحْلِبُ شَاةً فَقَالَ : " أَيْ فُلَانُ ، إِذَا حَلَبْتَ فَأَبْقِ لِوَلَدِهَا فَإِنَّهَا مِنْ أَبَرِّ الدَّوَابِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَارَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو بکری کا دودھ دوہ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں جب تم دودھ دوہ رہے ہو ، تو اس کے بچے کے لئے باقی رہنے دینا ، کیونکہ یہ سب جانوروں میں سب سے زیادہ فرمانبردار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن جبارہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط “ (889)»
وَعَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ ، فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ ، لَا يَغِيظُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سوادہ بن ربیع ہی نہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنیاں دینے کا حکم دیا ، پھر آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” جب تم اپنے گھر واپس جاؤ ، تو ان لوگوں کو یہ ہدایت کرنا کہ وہ ان کے کھانے پینے کا اچھی طرح خیال رکھیں ، اور انہیں یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش کے رکھیں ، وہ اُن ناخنوں کے ذریعے دودھ دوہتے ہوئے اپنے جانوروں کے تھنوں کو زخمی نہ کریں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : أَبَصَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي رَاكِبًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ . ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدِ اشْتَرَى نَاقَةً لِيَدْعُوَ اللَّهَ عَلَيْهَا ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَعَا لَهُ حِينَ سَلَّمَ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ النَّاقَةِ وَالدُّعَاءِ لَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زبیر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہونے کے عالم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے ایک اونٹنی خریدی تھی ، اس کا مقصد یہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس اونٹنی کے لئے دعا کر دیں ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، جب آپ نے سلام پھیر لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں اونٹنی اور اس کے لئے دعا کرنے والا واقعہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (337/3)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ ، فَوَجَدَ نَاقَةً مَعْقُولَةً فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ ؟ " . فَلَمْ يَسْتَجِبْ لَهُ أَحَدٌ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى حَتَّى فَرَغَ ، فَوَجَدَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ ؟ " . فَاسْتَجَابَ لَهُ صَاحِبُهَا فَقَالَ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَفَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَعَالَى فِيهَا ؟ إِمَّا أَنْ تَعْقِلَهَا ، وَإِمَّا أَنْ تُرْسِلَهَا حَتَّى تَبْتَغِيَ لِنَفْسِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لائے ، آپ نے ایک اونٹنی بندھی ہوئی پائی ، تو دریافت کیا : اس سواری کا مالک کہاں ہے ؟ کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے آپ نے نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہو گئے تو آپ نے اس اونٹنی کو اسی طرح بندھا ہوا پایا ، آپ نے دریافت کیا : اس سواری کا مالک کہاں ہے ؟ تو اس شخص نے آپ کو جواب دیا ، اس شخص نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو ، یا تو تم اسے چارہ ڈالو ، یا اسے چھوڑ دو ، تاکہ یہ خود ہی کھا پی لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13746
درجۂ حدیث محدثین: اسنادہ جید۔