مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الدَّوَابِّ . باب: جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
وَعَنْ نُقَادَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا نُقَادَةُ ، ابْغِنِي نَاقَةً حَلْبَانَةً رَكْبَانَةً غَيْرَ أَنْ لَا تُوَلِّدَ وَالِدَةً " . قَالَ : فَجِئْتُ فَبَغَيْتُهَا فِي نَعَمٍ فَلَمْ أَجِدْ نَاقَةً مَرِيًّا ذَلُولًا وَوَجَدْتُهَا فِي نَعَمِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، فَقَدِمْتُ بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا نُقَادَةُ ، أَبْقِ دَوَاعِيَ الدَّرِّ " أَوْ قَالَ : " دَوَاعِيَ اللَّبَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے نقادہ ! میرے لئے ایسی اونٹنی تلاش کرو ، جو دودھ دینے والی ہو ، اور اس پر سواری بھی کی جا سکے اور اس کے ہاں بچہ نہ ہوا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں آیا ، میں نے اسے جانوروں میں تلاش کیا ، تو مجھے ایسی کوئی اونٹنی نہیں ملی جو دودھ والی بھی ہو اور فرمانبردار بھی ہو ( یا جس پر سواری بھی کی جا سکے ) پھر مجھے اپنے چچا زاد کے اونٹوں میں ایسی اونٹنی مل گئی ، میں اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے نقادہ ! تھن کے دواعی کو باقی رہنے دو ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دودھ کے دواعی کو باقی رہنے دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔