حدیث نمبر: 13742
وَفِي رِوَايَةٍ : بَعَثَ عَمِّي بِلَقُوحٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِيَ : " احْلِبْهَا " . فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ : " يَا نُقَادَةَ ، دَعْ دَوَاعِيَ اللَّبَنِ " . قَالَ : فَتَرَكْتُ أَخْلَاقَهَا قَائِمَةً لَمْ تَنْفُضِ اللَّبَنَ كُلَّهُ . وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الْأُولَى : إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الثَّانِيَةِ : يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَجَمَاعَةٌ لَا يُعْرَفُونَ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میرے چچا نے کچھ اونٹنیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان کا دودھ دوہ لو ! میں نے ان کا دودھ دوہ لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نقادہ ! دودھ کے دواعی کو چھوڑ دینا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اس کے تھن یوں چھوڑے کہ ان میں سے سارا ہی دودھ نکال نہیں لیا گیا تھا ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق فروی ہے ، اور وہ متروک ہے ، دوسری کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ، اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جو معروف نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13742
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً