کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ ، جو ابوالبشر ہیں
حدیث نمبر: 13747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جَعَلَهُ طِينًا ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ حَمَأً مَسْنُونًا خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ صَلْصَالًا كَالْفَخَّارِ - قَالَ : فَكَانَ إِبْلِيسُ يَمُرُّ بِهِ فَيَقُولُ : لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِيمٍ - ثُمَّ نَفَخَ اللَّهُ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ جَرَى فِيهِ الرُّوحُ بَصَرُهُ وَخَيَاشِيمُهُ فَعَطَسَ فَلَقَّاهُ أَنَّهُ حَمِدَ رَبَّهُ فَقَالَ الرَّبُّ : يَرْحَمُكَ رَبُّكَ . ثُمَّ قَالَ : يَا آدَمُ ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ فَقُلْ لَهُمْ وَانْظُرْ مَا يَقُولُونَ . فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَجَاءَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ : مَاذَا قَالُوا لَكَ ؟ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالُوا لَهُ - قَالَ : يَا رَبِّ ، لَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ قَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . قَالَ : يَا آدَمُ ، هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ . قَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَا ذُرِّيَّتِي ؟ قَالَ : اخْتَرْ يَدِي يَا آدَمُ . قَالَ : أَخْتَارُ يَمِينَ رَبِّي ، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ ، فَبَسَطَ اللَّهُ كَفَّهُ ، فَإِذَا كُلُّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر انہیں گیلی مٹی بنایا ، پھر انہیں چھوڑ دیا ، یہاں تک کہ وہ متغیر ہو کر سیاہی مائل ہو جانے والی مٹی بن گئے اور ان کی تخلیق کی ، پھر ان کی شکل بنائی ، پھر انہیں چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب وہ بجنے والی ٹھیکری کی طرح بن گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : ابلیس کا ان کے پاس سے گزر ہوا ، اس نے یہ کہا: تمہیں کسی بڑے معاملے کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی ، تو وہ روح جس چیز میں سب سے پہلے جاری ہوئی وہ ان کی بصارت تھی اور ان کے نتھنوں میں جاری ہوئی ، تو انہیں چھینک آ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بات القاء کی کہ وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کریں ، تو انہوں نے اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ، تو پروردگار نے فرمایا : تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے ! پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم ( فرشتوں کے ) اس گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو ، اور پھر یہ دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ آئے انہیں سلام کیا ، ان فرشتوں نے کہا: وعلیک السلام ورحمة الله ، سیدنا آدم علیہ السلام واپس اپنے پروردگار کے پاس آئے ، تو پروردگار نے دریافت کیا : انہوں نے تمہیں کیا کہا: ؟ حالانکہ پروردگار ان فرشتوں کے اُن سے کہے ہوئے جواب کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا تھا ، سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! جب میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے کہا: وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ، تو پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری ذریت کا سلام کرنے کا مخصوص طریقہ ہے ، سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میری ذریت سے مراد کیا ہے ؟ پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرو ، تو انہوں نے کہا: میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو اختیار کرتا ہوں ، ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا ، تو ان کی ذریت میں جس نے بھی پیدا ہونا ہے ، وہ رحمان کی ہتھیلی میں آ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13748
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَفَعَهُ - قَالَ : " لَمَّا أَخْرَجَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ ، زَوَّدَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَعَلَّمَهُ صَنْعَةَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَثِمَارُكُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ ، غَيْرَ أَنَّ هَذِهِ تَغَيَّرُ وَتِلْكَ لَا تَتَغَيَّرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا ، تو انہیں زاد راہ کے طور پر جنت کے پھل دیے اور انہیں یہ تعلیم دی کہ انہوں نے ہر کام کیسے کرنا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تو تمہارے پھل جنت کے پھلوں کا حصہ ہیں ، البتہ یہ متغیر ( یعنی خراب ) ہو جاتے ہیں ، اور وہ متغیر نہیں ہوتے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13749
وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ بُكَاءَ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبُكَاءَ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ يُعْدَلُ بِبُكَاءِ آدَمَ مَا عَدَلَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبریدہ رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اگر سیدنا داؤد کا رونا اور تمام اہل زمین کا رونا اکٹھا ہو جائے ، اور اسے سیدنا آدم علیہ السلام کے رونے کے مقابلے میں رکھا جائے تو بھی وہ اُس کے برابر نہیں ہو سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13750
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آدَمُ أَنَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ كَانَ نَبِيًّا رَسُولًا كَلَّمَهُ اللَّهُ قَبْلًا قَالَ لَهُ : ( يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلام کیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تھا : ” اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی ، جنت میں رہائش اختیار کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 13751
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ الْمَلَائِكَةِ ؟ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَأَفْضَلُ النَّبِيِّينَ آدَمُ ، وَأَفْضَلُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَأَفْضَلُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ ، وَأَفْضَلُ اللَّيَالِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، وَأَفْضَلُ النِّسَاءِ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والے فرشتے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ جبرائیل ہے ، اور سب سے زیادہ فضیلت والے نبی ، سیدنا آدم علیہ السلام ہیں ، سب سے زیادہ فضیلت والا دن ، جمعہ کا دن ہے ، سب سے زیادہ فضیلت والا مہینہ ، رمضان کا مہینہ ہے ، سب سے زیادہ فضیلت والی رات ، شب قدر ہے ، اور سب سے زیادہ فضیلت والی خاتون ، مریم بنت عمران ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رافع بن ہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رافع بن ہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13752
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13753
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : " إِنَّ آدَمَ لَمَّا طَوْطَى عَنْ كَلَامِ الْمَلَائِكَةِ ، وَكَانَ يَسْتَأْنِسُ لِكَلَامِهِمْ ، بَكَى عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مِائَةَ سَنَةٍ ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا آدَمُ ، مَا يُحْزِنُكَ ؟ قَالَ : كَيْفَ لَا أَحْزَنُ وَقَدْ أَهْبَطْتَنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَلَا أَدْرِي أَعُودُ إِلَيْهَا أَمْ لَا ؟ فَقَالَ اللَّهُ : يَا آدَمُ قُلِ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ . وَالثَّانِيَةُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، سُبْحَانَكَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ . وَالثَّالِثَةُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، رَبِّ عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ . فَهَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ) قَالَ : وَهِيَ لِوَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ . وَقَالَ آدَمُ لِابْنٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : هِبَةُ اللَّهِ - وَيُسَمِّيهِ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَأَهْلُ الْإِنْجِيلِ شِيثٌ - : تَعَبَّدْ لِرَبِّكَ وَسَلْهُ : يَرُدُّنِي إِلَى الْجَنَّةِ أَمْ لَا ؟ فَتَعَبَّدَ وَسَأَلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي أَرُدُّهُ إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : أَيْ رَبِّ إِنِّي لَمْ آمَنْ أَبِي ، أَحْسَبُ أَنَّ أَبِي سَيَسْأَلُنِي الْعَلَامَةَ . فَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ سِوَارًا مِنْ أَسْوِرَةِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : أَبْشِرْ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَادُّكَ إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : فَمَا سَأَلْتَهُ الْعَلَامَةَ ؟ فَأَخْرَجَ السِّوَارَ فَعَرَفَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا ، فَبَكَى حَتَّى سَالَ مِنْ عَيْنَيْهِ نَهْرٌ مِنْ دُمُوعٍ ، وَآثَارُهُ تُعْرَفُ بِالْهِنْدِ ، وَذُكِرَ أَنَّ كَنْزَ الذَّهَبِ بِالْهِنْدِ مِمَّا يَنْبُتُ مِنْ ذَلِكَ السِّوَارِ ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَطْعِمْ لِي رَبَّكَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ . فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ مَاتَ آدَمُ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَى رَبِّي أَنْ يُطْعِمَهُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ . قَالَ : فَإِنَّ رَبَّهُ قَضَى أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى يُعَادَ إِلَيْهَا ، وَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَارْجِعْ فَوَارِهِ . فَأَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَغَسَّلَهُ وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ : هَكَذَا فَاصْنَعُوا بِمَوْتَاكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا کلام سننے سے روک دیا گیا ، تو وہ پہلے فرشتوں کے کلام سے انسیت حاصل کرتے تھے ، وہ جنت کے دروازے پر ایک سو سال تک روتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : اے آدم ! تم کس بات پر غمگین ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں کیوں غمگین نہ ہوؤں ؟ جبکہ تو نے مجھے جنت سے نیچے اتار دیا ہے ، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا میں اس کی طرف واپس جا پاؤں گا یا نہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم یہ پڑھو : ” تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو اکیلا ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ! بے شک تو سب سے زیادہ مغفرت کرنے والا ہے ۔ “ دوسرا یہ پڑھو : ” اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تو یکتا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ “ تیسرا یہ پڑھو : ” اے اللہ ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ تو یہ وہ کلمات ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” تو آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھ لیے ، تو پروردگار نے اس کی توبہ قبول کی ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ تو پروردگار نے فرمایا : یہ ( کلمات ) اس کے بعد اس کی اولاد کے لئے بھی ہوں گے ۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے جن کا نام ” ہبۃ اللہ “ تھا ، اور اہل تورات اور اہل انجیل انہیں ” شیث “ کہتے ہیں ، ان سے یہ فرمایا : تم اپنے پرودگار کی عبادت کرو اور اس سے یہ سوال کرو کہ کیا وہ مجھے جنت کی طرف لوٹائے گا یا نہیں ؟ تو انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے یہ سوال کیا ، تو پروردگار نے ان کی طرف یہ وحی کی : میں اس کو جنت کی طرف لوٹا دوں گا ، تو انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے والد مجھ سے اس بارے میں کوئی نشانی پوچھ سکتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جنت کے کنگنوں میں سے کنگن بھیجے ، جب سیدنا شیث علیہ السلام سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے کہا: آپ کے لئے خوشخبری ہے ، اس ( پروردگار ) نے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ وہ آپ کو جنت کی طرف لوٹا دے گا ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم نے اس سے ( یعنی پروردگار سے ) کوئی نشانی نہیں مانگی ؟ تو سیدنا شیث علیہ السلام نے کنگن نکال کے دکھائے ، سیدنا آدم علیہ السلام اسے پہچان گئنے اور روتے ہوئے سجدے میں چلے گے ، یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو گئی ، جس کے نشان اب بھی ہندوستان میں معروف ہیں ، یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ ہندوستان میں جو سونے کے خزانے ہیں ، وہ اس کنگن سے پیدا ہوئے ہیں ، پھر سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم میرے لئے اپنے پروردگار سے جنت کے پھل مانگو ، جب سیدنا شیث علیہ السلام ان کے پاس سے نکلے تو سیدنا آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ سیدنا شیث علیہ السلام نے جواب دیا : میرے والد نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اپنے پروردگار سے یہ درخواست کروں کہ وہ انہیں جنت کے پھل کھلائے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ان کے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اس جنت میں سے کچھ بھی اس وقت تک نہیں کھا پائیں گے ، جب تک وہ دوبارہ اس کی طرف نہیں چلے جاتے اور اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ، آپ واپس جائیں اور انہیں دفن کریں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے ، انہوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی اور ان کی نماز جنازہ پڑھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ لوگ اپنے مرحومین کے ساتھ اس طرح کیا کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13754
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ آدَمَ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفَّنُوهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَدَفَنُوهُ ، وَقَالُوا : هَذِهِ سُنَّتُكُمْ يَا بَنِي آدَمَ فِي مَوْتَاكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، ان کے لئے لحد بنائی اور انہیں دفن کیا اور یہ کہا: اے اولاد آدم ! تمہارے مرحومین کے بارے میں تمہارا یہ مخصوص طریقہ ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 13755
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَمَّا تُوُفِّيَ آدَمُ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمَاءِ وِتْرًا وَلَحَدَتْ لَهُ وَقَالَتْ : هَذِهِ سُنَّةُ آدَمَ وَوَلَدِهِ " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَكَذَلِكَ رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ فِي السَّنَدِ الْآخَرِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ، تو فرشتوں نے پانی کے ذریعے انہیں طاق تعداد میں غسل دیا ، ان کے لئے لحد تیار کی اور یہ کہا: یہ سیدنا آدم اور ان کی اولاد کے لئے طریقہ ہے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی حسین بن ابوسری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، دوسری سند میں موجود روح بن اسلم نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 13756
وَعَنْ عُتَيٍّ قَالَ : رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا : هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ . فَقَالَ : " إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ لِبَنِيهِ : أَيْ بَنِيَّ ، إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ . فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ مَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ ، وَمَعَهُمُ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ ، فَقَالُوا : يَا بَنِي آدَمَ ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ ؟ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ؟ قَالُوا : أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ . قَالُوا لَهُمْ : ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ أَبُوكُمْ . فَجَاءُوا ، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ ، فَقَالَ : إِلَيْكِ عَنِّي ، فَإِنَّمَا أُتِيتُ مِنْ قِبَلِكَ ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى . فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ ، وَحَفَرُوا لَهُ وَلَحَدُوا لَهُ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالُوا : يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عتی بیان کرتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے یہ بتایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے صاحبزادوں سے فرمایا : میرے بیٹو ! مجھے جنت کے پھلوں کی خواہش ہو رہی ہے ، تو وہ لوگ ان کے لئے وہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ، ان کا سامنا فرشتوں سے ہوا ، جن کے ساتھ سیدنا آدم علیہ السلام کا کفن تھا اور انہیں لگانے والی خوشبو تھی ، ان فرشتوں کے ساتھ پھاؤڑے ، بیلچے اور کدالیں تھیں ، انہوں نے کہا: اے اولاد آدم ! تم کہاں جا رہے ہو ؟ کیا تلاش کر رہے ہو ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم کیا چاہتے ہو ؟ اور تم کہاں جا رہے ہو ؟ تو نہوں نے بتایا : ہمارے والد بیمار ہیں ، انہیں جنت کے پھلوں کی طلب ہو رہی ہے ، تو ان فرشتوں نے ان بیٹوں سے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ ! کیونکہ تمہارے والد کا آخری وقت آ گیا ہے ، وہ لوگ واپس آئے ، جب سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان فرشتوں کو دیکھا تو انہیں پہچان لیا ، وہ سیدنا آدم علیہ السلام نام سے لپٹ گئیں ، سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم مجھ سے الگ ہو جاؤ ! کیونکہ تم سے پہلے میری وفات کا وقت آ گیا ہے ، تم میرے اور میرے پروردگار کے فرشتوں کے درمیان جگہ چھوڑ دو ! فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی ، انہیں غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی ان کے لئے قبر کھودی ، ان کے لئے لحد تیار کی ، ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر وہ فرشتے ان کی قبر میں اترے اور انہیں قبر میں رکھا اور ان پر اینٹیں لگائیں ، پھر وہ قبر سے باہر آئے اور ان پر مٹی ڈالی اور پھر یہ بات بیان کی : اے اولاد آدم ! یہ تمہارے لئے مخصوص طریقہ ہو گا ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔