حدیث نمبر: 13746
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ ، فَوَجَدَ نَاقَةً مَعْقُولَةً فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ ؟ " . فَلَمْ يَسْتَجِبْ لَهُ أَحَدٌ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى حَتَّى فَرَغَ ، فَوَجَدَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ ؟ " . فَاسْتَجَابَ لَهُ صَاحِبُهَا فَقَالَ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَفَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَعَالَى فِيهَا ؟ إِمَّا أَنْ تَعْقِلَهَا ، وَإِمَّا أَنْ تُرْسِلَهَا حَتَّى تَبْتَغِيَ لِنَفْسِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لائے ، آپ نے ایک اونٹنی بندھی ہوئی پائی ، تو دریافت کیا : اس سواری کا مالک کہاں ہے ؟ کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے آپ نے نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہو گئے تو آپ نے اس اونٹنی کو اسی طرح بندھا ہوا پایا ، آپ نے دریافت کیا : اس سواری کا مالک کہاں ہے ؟ تو اس شخص نے آپ کو جواب دیا ، اس شخص نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو ، یا تو تم اسے چارہ ڈالو ، یا اسے چھوڑ دو ، تاکہ یہ خود ہی کھا پی لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13746
درجۂ حدیث محدثین: اسنادہ جید۔