کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بھلائی کا شکریہ ادا کرنا اور بھلائی کرنے والے کو بدلہ دینا
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَشْكَرَ النَّاسِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر ادا کرنے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کا سب سے زیادہ شکرگزار ہوتا ہو ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس شخص نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا ، جو لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثِيرًا مَا يَقُولُ لِي : " يَا عَائِشَةَ ، مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ ؟ " . فَأَقُولُ : وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَثِيرَةٌ ؟ فَيَقُولُ لِي : " فِي الشُّكْرِ " . فَأَقُولُ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ الشَّاعِرُ : ارْفَعْ صَنِيعَكَ لَا يُجَرْ بِكَ ضَعْفُهُ يَوْمًا فَتُدْرِكُهُ الْعَوَاقِبُ قَدْ نَمَا يَجْزِيكَ أَوْ يُثْنِي عَلَيْكَ وَإِنَّ مَنْ أَثْنَى عَلَيْكَ بِمَا فَعَلْتَ كَمَنْ جَزَى إِنَّ الْكَرِيمَ إِذَا أَرَدْتَ وِصَالَهُ لَمْ تُلْفِ رَثًّا حَبْلُهُ وَاهِي الْقُوَى قَالَ : فَيَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، إِذَا حَشَرَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ اصْطَنَعَ إِلَيْهِ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِهِ مَعْرُوفًا : هَلْ شَكَرْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، عَلِمْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْكَ فَشَكَرْتُكَ عَلَيْهِ . فَيَقُولُ : لَمْ تَشْكُرْنِي إِنْ لَمْ تَشْكُرْ مَنْ أَجْرَيْتُ ذَلِكَ عَلَى يَدَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مجھ سے یہ دریافت کیا کرتے تھے : تمہارے آس پاس کے گھر والوں کا کیا حال ہے ؟ میں عرض کرتی تھی : یا رسول اللہ ! آپ آس پاس کے کون سے گھر مراد لے رہے ہیں ؟ کیونکہ ایسے گھر تو بہت سے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شکرگزار ہونے کے حوالے سے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، شاعر نے کہا: ہے : ” اپنے کمزور کو اس طرح بلند کرو کہ اس کی کمزوری کسی دن تمہارا نقصان نہ کرے ، اور عواقب اس تک یوں پہنچیں کہ وہ نمو پا چکے ہوں ، وہ تمہیں بدلہ دے گا یا تمہاری تعریف کرے گا ، اور تمہارے کسی کام پر جس نے تمہاری تعریف کر دی تو گویا اس نے تمہیں بدلہ دیدیا ، جب تم کسی معزز شخص سے تعلق قائم کرنے کا ارادہ کرتے ہو ، تو تم ایسے ردی سامان کو ضائع نہیں کرتے ، جس کی رسی کمزور دھاگوں والی ہو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو زندہ کرے گا ، تو وہ اپنے ایک بندے سے دریافت کرے گا ، جس کے ساتھ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے نے کوئی بھلائی کی ہو گی ، کہ کیا تم اس کے شکرگزار ہوئے تھے ؟ تو وہ شخص جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میں یہ بات جانتا تھا کہ یہ بھلائی تیری طرف سے ہے ، تو میں نے اس کے حوالے سے تیرا شکر ادا کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے میرا شکر ادا نہیں کیا ، جبکہ تم اس شخص کے شکرگزار نہیں ہوئے ، جس کے ذریعے میں نے وہ بھلائی عطا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد ذاکر بن شیبہ عسقلانی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد ذاکر بن شیبہ عسقلانی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” وہ شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا ، جو لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْكَرُ النَّاسِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ نُعَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر وہ شخص ادا کرتا ہے ، جو لوگوں کا زیادہ شکرگزار ہو ۔ “
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَمْ يَشْكُرْ لِلنَّاسِ لَمْ يَشْكُرْ لِلَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ، اُس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ، اُس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اصْطَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَجَازُوهُ ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ ، عَنْ مُجَازَاتِهِ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ شَكَرْتُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَهُوَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ بِلَفْظِ : " حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " بَدَلَ : " حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ شَكَرْتُمْ " . دُونَ مَا بَعْدَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے ، تو اس کو بدلہ دو ! اگر تم اس کو بدلہ دینے سے عاجز ہو ، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ وہ یہ جان جائے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ شکر کو قبول کرنے والا ہے ، اور وہ شکریہ ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے اُسے بدلہ دے دیا ہے “ یہ ان الفاظ کی جگہ ہیں : ” یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے “ اور اس روایت میں اس کے بعد والے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے اُسے بدلہ دے دیا ہے “ یہ ان الفاظ کی جگہ ہیں : ” یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے “ اور اس روایت میں اس کے بعد والے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ ، فَإِنَّ مَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يُعْطَ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے ، اُسے اس کا بدلہ دینا چاہیے ، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، تو اس کا ذکر کرنا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اس کا ذکر کر دے گا ، وہ اُس کا شکریہ ادا کر دے گا ، اور جو شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرے ، جو اسے نہ دی گئی ہو ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيَذْكُرْهُ ، فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے ، اُسے اس کا ذکر کرنا چاہیے ، جو شخص اس کا ذکر کر دے گا ، وہ اس کا شکریہ ادا کر دے گا ، اور جو شخص اسے چھپائے گا ، وہ اُس کی ناشکری کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوَا لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے ، تم لوگ اسے بدلہ دو ! اگر تم اس کی گنجائش نہیں پاتے ہو ، تو اس کے لئے دعا کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص یہ کہہ دے : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، تو اُس نے بھرپور تعریف کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِسْعٍ فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید گرمی کے دوران پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا ، ایک شخص تسمہ لے کر آیا اور وہ تسمہ اس نے آپ کے جوتے میں لگا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے اللہ کے رسول کو جو چیز فراہم کی ہے ، اگر تمہیں ( اس کے اجر و ثواب کا ) پتہ چل جائے ، تو تم اُس کو کم شمار نہ کرو ، جو تم نے اللہ کے رسول کو فراہم کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَوْ قَالَ لِي فِرْعَوْنُ : بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ . قُلْتُ : وَفِيكَ . وَفِرْعَوْنُ قَدْ مَاتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اگر فرعون مجھ سے یہ کہے : اللہ تعالیٰ آپ کو برکت نصیب کرے ، تو میں یہ کہوں گا : تمہیں بھی کرے ، اگرچہ فرعون مر چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔