حدیث نمبر: 13635
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثِيرًا مَا يَقُولُ لِي : " يَا عَائِشَةَ ، مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ ؟ " . فَأَقُولُ : وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَثِيرَةٌ ؟ فَيَقُولُ لِي : " فِي الشُّكْرِ " . فَأَقُولُ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ الشَّاعِرُ : ارْفَعْ صَنِيعَكَ لَا يُجَرْ بِكَ ضَعْفُهُ يَوْمًا فَتُدْرِكُهُ الْعَوَاقِبُ قَدْ نَمَا يَجْزِيكَ أَوْ يُثْنِي عَلَيْكَ وَإِنَّ مَنْ أَثْنَى عَلَيْكَ بِمَا فَعَلْتَ كَمَنْ جَزَى إِنَّ الْكَرِيمَ إِذَا أَرَدْتَ وِصَالَهُ لَمْ تُلْفِ رَثًّا حَبْلُهُ وَاهِي الْقُوَى قَالَ : فَيَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، إِذَا حَشَرَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ اصْطَنَعَ إِلَيْهِ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِهِ مَعْرُوفًا : هَلْ شَكَرْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، عَلِمْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْكَ فَشَكَرْتُكَ عَلَيْهِ . فَيَقُولُ : لَمْ تَشْكُرْنِي إِنْ لَمْ تَشْكُرْ مَنْ أَجْرَيْتُ ذَلِكَ عَلَى يَدَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مجھ سے یہ دریافت کیا کرتے تھے : تمہارے آس پاس کے گھر والوں کا کیا حال ہے ؟ میں عرض کرتی تھی : یا رسول اللہ ! آپ آس پاس کے کون سے گھر مراد لے رہے ہیں ؟ کیونکہ ایسے گھر تو بہت سے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شکرگزار ہونے کے حوالے سے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، شاعر نے کہا: ہے : ” اپنے کمزور کو اس طرح بلند کرو کہ اس کی کمزوری کسی دن تمہارا نقصان نہ کرے ، اور عواقب اس تک یوں پہنچیں کہ وہ نمو پا چکے ہوں ، وہ تمہیں بدلہ دے گا یا تمہاری تعریف کرے گا ، اور تمہارے کسی کام پر جس نے تمہاری تعریف کر دی تو گویا اس نے تمہیں بدلہ دیدیا ، جب تم کسی معزز شخص سے تعلق قائم کرنے کا ارادہ کرتے ہو ، تو تم ایسے ردی سامان کو ضائع نہیں کرتے ، جس کی رسی کمزور دھاگوں والی ہو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو زندہ کرے گا ، تو وہ اپنے ایک بندے سے دریافت کرے گا ، جس کے ساتھ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے نے کوئی بھلائی کی ہو گی ، کہ کیا تم اس کے شکرگزار ہوئے تھے ؟ تو وہ شخص جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میں یہ بات جانتا تھا کہ یہ بھلائی تیری طرف سے ہے ، تو میں نے اس کے حوالے سے تیرا شکر ادا کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے میرا شکر ادا نہیں کیا ، جبکہ تم اس شخص کے شکرگزار نہیں ہوئے ، جس کے ذریعے میں نے وہ بھلائی عطا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد ذاکر بن شیبہ عسقلانی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13635
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (454)»