مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ شُكْرِ الْمَعْرُوفِ وَمُكَافَأَةِ فَاعِلِهِ باب: بھلائی کا شکریہ ادا کرنا اور بھلائی کرنے والے کو بدلہ دینا
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ ، فَإِنَّ مَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يُعْطَ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے ، اُسے اس کا بدلہ دینا چاہیے ، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، تو اس کا ذکر کرنا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اس کا ذکر کر دے گا ، وہ اُس کا شکریہ ادا کر دے گا ، اور جو شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرے ، جو اسے نہ دی گئی ہو ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔