مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ شُكْرِ الْمَعْرُوفِ وَمُكَافَأَةِ فَاعِلِهِ باب: بھلائی کا شکریہ ادا کرنا اور بھلائی کرنے والے کو بدلہ دینا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اصْطَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَجَازُوهُ ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ ، عَنْ مُجَازَاتِهِ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ شَكَرْتُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَهُوَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ بِلَفْظِ : " حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " بَدَلَ : " حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ شَكَرْتُمْ " . دُونَ مَا بَعْدَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے ، تو اس کو بدلہ دو ! اگر تم اس کو بدلہ دینے سے عاجز ہو ، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ وہ یہ جان جائے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ شکر کو قبول کرنے والا ہے ، اور وہ شکریہ ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے اُسے بدلہ دے دیا ہے “ یہ ان الفاظ کی جگہ ہیں : ” یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے “ اور اس روایت میں اس کے بعد والے الفاظ نہیں ہیں ۔