مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ شُكْرِ الْمَعْرُوفِ وَمُكَافَأَةِ فَاعِلِهِ باب: بھلائی کا شکریہ ادا کرنا اور بھلائی کرنے والے کو بدلہ دینا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِسْعٍ فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید گرمی کے دوران پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا ، ایک شخص تسمہ لے کر آیا اور وہ تسمہ اس نے آپ کے جوتے میں لگا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے اللہ کے رسول کو جو چیز فراہم کی ہے ، اگر تمہیں ( اس کے اجر و ثواب کا ) پتہ چل جائے ، تو تم اُس کو کم شمار نہ کرو ، جو تم نے اللہ کے رسول کو فراہم کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔