مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ باب: جب آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے ، اسے کھا لینا چاہیے اور اس کھانے کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا ، فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ ، وَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص ، اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ دوسرا شخص اُسے کھانا کھلائے ، تو پہلے شخص کو اس کھانے میں سے کھا لینا چاہیے ، اور اس کھانے کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے ، اور جب وہ دوسرا شخص اسے مشروب پلائے ، تو اس مشروب کو بھی پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔