حدیث نمبر: 12974
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ الْهَجْرُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَإِنِ الْتَقَيَا فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ فَرَدَّ السَّلَامَ ، اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ ، وَإِنْ أَبَى الْآخَرُ أَنْ يَرُدَّ السَّلَامَ بَرِئَ هَذَا مِنَ الْإِثْمِ وَبَاءَ بِهِ الْآخَرُ ، وَقَدْ خَشِيتُ إِنْ مَاتَا وَهُمَا مُتَهَاجِرَانِ ، لَا يَجْتَمِعَانِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : إِنَّهُ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنا جائز نہیں ہے ، جب وہ دونوں ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرے اور دوسرا سلام کا جواب دیدے ، تو وہ دونوں ثواب میں حصے دار ہو جاتے ہیں ، اور اگر دوسرا شخص سلام کا جواب دینے سے انکار کر دے تو پہلے شخص سے گناہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور دوسرا شخص اس گناہ کو لے کے واپس جاتا ہے ، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر وہ دونوں اس حالت میں مریں کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کیے ہوئے ہوں ، تو وہ جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے یہ کہا: ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف