حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : ¤ " سَأُحَدِّثُكُمْ بِأُمُورِ النَّاسِ وَاخْتِلَافِهِمْ . الرَّجُلُ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ ، فَلَا عَلَيْهِ وَلَا لَهُ كَفَافًا ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ بَعِيدَ الْغَضَبِ ، سَرِيعَ الْفَيْءِ ، فَذَاكَ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَالرَّجُلُ يَقْتَضِي الَّذِي لَهُ وَيَقْتَضِي الَّذِي عَلَيْهِ ، فَذَاكَ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَالرَّجُلُ يَقْتَضِي الَّذِي لَهُ ، وَيَمْطُلُ النَّاسَ بِالَّذِي عَلَيْهِ ، فَذَاكَ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ثِقَتَانِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں عنقریب تمہیں لوگوں کے امور اور ان کے اختلاف ( یعنی درجہ کے اعتبار سے مختلف ہونے ) کے بارے میں بتاؤں گا ، ایک شخص غصے کا تیز ہوتا ہے ، اور اس کا غصہ جلدی ختم ہو جاتا ہے ، ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اور اس کو کوئی ثواب بھی نہیں ملے گا ، برابر کا معاملہ ہو گا ، ایک شخص دیر سے غصے میں آتا ہے اور جلدی غصہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس شخص کو اجر ملے گا ، اس شخص کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہو گا ، ایک شخص وہ چیز چاہتا ہے جو اس کا حق ہوتا ہے ، اور وہ ادا کرتا ہے جو اس کے ذمہ لازم ہوتی ہے ، تو نہ اس شخص کے حق میں کچھ ہو گا اور نہ اس کے خلاف کچھ ہو گا ، ایک وہ شخص ہے جو اس چیز کو چاہتا ہے جو اس کا حق ہو ، اور اس چیز کے بارے میں لوگوں کے ساتھ ٹال مٹول کرتا ہے جو اس کا فرض ہوتا ہے ، تو ایسے شخص کے ذمہ گناہ ہو گا اسے ثواب نہیں ملے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے عبدالرحمن بن شریک کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، یہ دونوں ثقہ ہیں اور ان دونوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2052)»