حدیث نمبر: 12975
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا . وَالَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ يَسْبِقُ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو ، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ( یا اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ ) کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ، یوں کہ جب وہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ( ان دونوں میں سے ) جو شخص سلام میں پہل کرے گا وہ جنت کی طرف سبقت لے جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف