مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَانِ باب: لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صِرَامِهِمَا ، وَأَوَّلُهُمَا تَسْلِيمًا يَكُونُ سَبَقَهُ بِأَلْفَيْ كَفَّارَةٍ ، وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبِلْ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ ، فَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ دوسرے مسلمان سے لاتعلقی اختیار کرے جب تک وہ دونوں اپنی لاتعلقی پر برقرار رہیں گے وہ حق سے عدول کرنے والے ہوں گے ، اور ان دونوں میں سے جو سلام کرنے میں پہل کرے گا ، تو وہ دو ہزار کفاروں کے ساتھ اس کام کی طرف سبقت لے جائے گا ، اور اگر اس نے سلام کر لیا ، اور دوسرے شخص نے اسے قبول نہیں کیا اور سلام کا جواب نہیں دیا تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیں گے ، اور دوسرے شخص کو شیطان جواب دے گا ، اور اگر وہ دونوں مر گئے ، تو وہ دونوں کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔