کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قتل خطا اور قتل عمد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ عَصًا أَوْ سَوْطٍ ، عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَأٍ ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی اجتماعی جھگڑے کے دوران پتھر یا عصا یا لاٹھی لگنے سے مر جائے ، تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی اور جس شخص کو عمد کے طور پر قتل کیا جائے تو اس میں قصاص لازم ہو گا جو شخص اس بارے میں رکاوٹ بنے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالٰی اس شخص کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ نصیبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10718
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (228)»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَمْدُ قَوَدٌ ، وَالْخَطَأُ دِيَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قتل عمد میں قصاص لازم ہو گا اور قتل خطا میں دیت لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابوالفضل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ الْعَمْدَ السِّلَاحُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ وَالصَّحَابَةِ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ( یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : ) قتل عمد وہ ہے جو ہتھیار کے ذریعے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبدالکریم جزری اور صحابہ کرام کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ، تاہم اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10720
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
وَبِسَنَدِهِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ شِبْهَ الْعَمْدِ الْحَجَرُ وَالْعَصَا . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ( یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : ) ” شبہ عمد وہ ہے جو پتھر یا عصا کے ذریعے ہو “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10721
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9727)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ; أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : شِبْهُ الْعَمْدِ الْحَجَرُ وَالْعَصَا وَالسَّوْطُ وَالدَّفْعَةُ ، وَكُلُّ شَيْءٍ عَمَدْتَهُ بِهِ ، فَفِيهِ التَّغْلِيظُ فِي الدِّيَةِ ، وَالْخَطَأُ أَنْ يَرْمِيَ شَيْئًا فَيُخْطِئَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” شبہ عمد پتھر یا عصا یا کوڑے یا دھکا دینے کے ذریعے ہوتا ہے ، اور ہر وہ چیز جس میں تم نے عمد کیا تھا اس میں دیت مغلظہ لازم ہو گی اور قتل خطا یہ ہے : کسی نے کوئی چیز پھینکی اور وہ غلطی سے ( مقتول کو ) لگ گئی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابولیلی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ابن ابولیلی تک اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9726)»
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَتَلُوهُ ، وَلَا يَعْرِفُونَهُ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَدِيَهُ ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں جس کے نتیجے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا والد یمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کس کی تلوار لگنے سے ایسا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت دینے کا ارادہ کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان کی دیت معاف کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (429/5)»