مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ باب: قتل خطا اور قتل عمد کا بیان
حدیث نمبر: 10718
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ عَصًا أَوْ سَوْطٍ ، عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَأٍ ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی اجتماعی جھگڑے کے دوران پتھر یا عصا یا لاٹھی لگنے سے مر جائے ، تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی اور جس شخص کو عمد کے طور پر قتل کیا جائے تو اس میں قصاص لازم ہو گا جو شخص اس بارے میں رکاوٹ بنے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالٰی اس شخص کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ نصیبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔