مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ باب: قتل خطا اور قتل عمد کا بیان
حدیث نمبر: 10723
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَتَلُوهُ ، وَلَا يَعْرِفُونَهُ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَدِيَهُ ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں جس کے نتیجے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا والد یمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کس کی تلوار لگنے سے ایسا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت دینے کا ارادہ کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان کی دیت معاف کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔