کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کیا حدود گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں یا نہیں بنتی ہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَدْرِي الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ أَمْ لَا ؟ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے نہیں معلوم کہ کیا حدود کفارہ بنتی ہیں یا نہیں بنتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حمد بن منصور رمادی معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حمد بن منصور رمادی معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ أَصَابَ شَيْئًا مِمَّا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّهُ ، كَفَّرَ عَنْهُ ذَلِكَ الذَّنْبَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” جو بندہ کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو اور پھر اس پر حد جاری ہو جائے تو وہ حد اس سے اس گناہ کو ختم کر دیتی ہے “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا ، وَأُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَهُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ” جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اس گناہ کی حد اس پر جاری ہو جائے تو وہ حد اس کا کفارہ بن جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور وہ ابن خزیمہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور وہ ابن خزیمہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ مُعَمَّرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : رُجِمَتِ امْرَأَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّاسُ : حَبِطَ عَمَلُهَا . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هُوَ كَفَّارَةُ ذُنُوبِهَا ، وَتُحْشَرُ عَلَى مَا سِوَى ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن معمر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت کو سنگسار کر دیا گیا لوگوں نے کہا: اس عورت کا عمل ضائع ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن گیا ہے اور اس عورت کا حشر اس کے علاوہ ہو گا ( یعنی حشر کے دن اس کے ساتھ یہ گناہ نہیں ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عُوقِبَ رَجُلٌ عَلَى ذَنْبٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ كَفَارَّةً لِمَا أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ الذَّنْبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کسی بندے کو کسی گناہ پر سزا دے دی جائے تو اللہ تعالٰی اس چیز کو اس کے اس گناہ کے ارتکاب کا کفارہ بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یسین زیاد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یسین زیاد ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ إِذْ بَصُرْتُ بِامْرَأَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ لِي هَمٌّ غَيْرَهَا ، حَتَّى حَاذَتْنِي ، ثُمَّ أَتْبَعْتُهَا بَصَرِي حَتَّى حَاذَيْتُ الْحَائِطَ ، فَالْتَفَتُّ فَأَصَابَ وَجْهِيَ الْحَائِطُ فَأَدْمَانِي . ¤ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَرَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُعَاقِبَ عَلَى ذَنْبٍ مَرَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ تَرَكَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : قَوَّاهُ النَّسَائِيُّ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي مَوَاضِعِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا میں نے ایک عورت کو دیکھا میری تمام تر توجہ اس کی طرف مبذول ہو گئی یہاں تک کہ وہ میرے قریب آ گئی پھر میں پیچھے سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ میں دیوار کے قریب ہوا میں مڑا تو میرے چہرے پر دیوار لگ گئی اور اس سے میرا خون نکل آیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اسے دنیا میں ہی اس کے گناہ کی سزا دے دیتا ہے اور ہمارا پروردگار اس سے زیادہ معزز ہے کہ وہ کسی گناہ کی دو مرتبہ سزا دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے امام أحمد نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا تھا ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ذہبی کہتے ہیں امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قومی کہا: ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہے جو مختلف مقامات پر موجود ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے امام أحمد نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا تھا ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ذہبی کہتے ہیں امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قومی کہا: ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہے جو مختلف مقامات پر موجود ہیں ۔