مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ هَلْ تُكَفِّرُ الْحُدُودُ الذُّنُوبَ أَمْ لَا باب: کیا حدود گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں یا نہیں بنتی ہیں
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ إِذْ بَصُرْتُ بِامْرَأَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ لِي هَمٌّ غَيْرَهَا ، حَتَّى حَاذَتْنِي ، ثُمَّ أَتْبَعْتُهَا بَصَرِي حَتَّى حَاذَيْتُ الْحَائِطَ ، فَالْتَفَتُّ فَأَصَابَ وَجْهِيَ الْحَائِطُ فَأَدْمَانِي . ¤ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَرَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُعَاقِبَ عَلَى ذَنْبٍ مَرَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ تَرَكَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : قَوَّاهُ النَّسَائِيُّ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي مَوَاضِعِهَا . ¤سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا میں نے ایک عورت کو دیکھا میری تمام تر توجہ اس کی طرف مبذول ہو گئی یہاں تک کہ وہ میرے قریب آ گئی پھر میں پیچھے سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ میں دیوار کے قریب ہوا میں مڑا تو میرے چہرے پر دیوار لگ گئی اور اس سے میرا خون نکل آیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اسے دنیا میں ہی اس کے گناہ کی سزا دے دیتا ہے اور ہمارا پروردگار اس سے زیادہ معزز ہے کہ وہ کسی گناہ کی دو مرتبہ سزا دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے امام أحمد نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا تھا ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ذہبی کہتے ہیں امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قومی کہا: ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہے جو مختلف مقامات پر موجود ہیں ۔