حدیث نمبر: 10601
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَتْلُ الرَّجُلِ صَبْرًا كَفَّارَةٌ لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کا باندھ کر قتل ہو جانا اس کے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10602
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَتْلُ الصَّبْرِ لَا يَمُرُّ بِذَنْبٍ إِلَّا مَحَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” باندھ کر قتل ہو جانا جس بھی گناہ کے پاس سے گزرتا ہے اسے مٹا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ہمارے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ہمارے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10603
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الَّذِي يُصِيبُ الْحُدُودَ ثُمَّ يُقْتَلُ عَمْدًا قَالَ : إِذَا جَاءَ الْقَتْلُ مُحِيَ كُلُّ شَيْءٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں جو شخص حدود کا مرتکب ہو اور پھر قتل عمد کے طور پر قتل ہو جائے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب قتل آ جاتا ہے تو ہر چیز ( یعنی گناہ ) کو مٹا دیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10604
وَعَنْ الْحَسَنِ قَالَ : كَانَ زِيَادٌ يَتْبَعُ شِيعَةَ عَلِيٍّ فَيَقْتُلُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ : اللَّهُمَّ تَفَرَّدْ بِمَوْتِهِ ; فَإِنَّ الْقَتْلَ كَفَّارَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں زیاد شیعہ نے علی کو تلاش کر کے انہیں قتل کر دیتا تھا اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا اے اللہ ! اسے طبعی موت دینا ، کیونکہ قتل ، کفارہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔