حدیث نمبر: 10401
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ¤ كَانَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجَعَ وَحَطَّ عَنْ رَاحِلَتِهِ عَمَدَ إِلَى مَسْجِدِ الرَّسُولِ ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَيُطِيلُ الصَّلَاةَ حَتَّى جَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرَوْنَ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَيْهِمْ . فَمَرَّ يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا جَاءَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقْبِلًا ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْمَجْلِسِ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقُلْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ : لَيْسَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ مِنِّي ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَخَطَّ خَطًّا بِرِجْلِهِ ، ثُمَّ صَفَّ كَعْبَيْهِ فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ، وَأَخَذَ السَّيْفَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي فَرَجَعَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ لَهُ إِنْ أَدْرَكْتَهُ " . فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " . قَالَ : لَمْ أَدْرِ أَيْنَ سَلَكَ مِنَ الْأَرْضِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ خَرَجَ فِي أُمَّتِي " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ قَتَلْتَهُ - أَوْ قَتَلَهُ - مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي اثْنَانِ ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ - يَعْنِي أُمَّتَهُ - سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً " . قُلْنَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ ؟ قَالَ : " الْجَمَاعَةُ " . ¤ قَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، فَأَيْنَ الْجَمَاعَةُ ؟ قَالَ : مَعَ أُمَرَائِكُمْ مَعَ أُمَرَائِكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَيَزِيدُ الرِّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ صَحَّ قَبْلَهُ حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا جب آپ واپس تشریف لائے ، تو وہ شخص اپنی سواری سے اترا اور مسجد نبوی کی طرف گیا اور اس میں نماز ادا کرنے لگا اس نے نماز کو طول دیا ، یہاں تک کہ صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے کہ اس شخص کو سب لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ایک دن وہ شخص گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کے کسی صحابی نے آپ کی خدمت میں عرضی کی : یا رسول اللہ ! یہ وہی شخص ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا ، یا وہ شخص خود اس طرف آ گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتے ہوئے ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شیطان کا شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ، جب وہ شخص اس محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں پھر وہ شخص چلا گیا وہ مسجد کے ایک کونے میں آیا اس نے اپنے پاؤں کے ذریعے ایک لکیر کھینچی اپنی ایڑیاں درست کیں اور پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جا کر اسے قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جائے گا اور اسے قتل کر دے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، انہوں نے تلوار لی انہوں نے اس شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو وہ بھی واپس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس شخص کی طرف جائے گا اور قتل کر دے گا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کر دو گے اگر تم نے اسے پایا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو نہیں پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ زمین میں کہاں چلا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میری امت میں خروج کرنے والا پہلا گروہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اگر تم اسے قتل کر دیتے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو میری امت کے دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہونا تھا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ) عنقریب بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی ایک گروہ کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ ایک گروہ کون سا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الجماعة یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوحمزہ ! جماعت کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے حکمرانوں کے ساتھ تمہارے حکمرانوں کے ساتھ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یزید رقاشی نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی کمزوری توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مستند روایت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یزید رقاشی نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی کمزوری توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مستند روایت گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 10402
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ¤ كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِاسْمِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَذْكُرُهُ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، قُلْنَا : هَا هُوَ ذَا . قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونِي عَنْ رَجُلٍ إِنَّ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ : مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّي ؟ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! أَقْتُلُ رَجُلًا يُصَلِّي ، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ ؟ فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " مَا فَعَلْتَ ؟ " . قَالَ : كَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، وَقَدْ نَهَيْتَ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ . ¤ قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، فَدَخَلَ فَوَجَدَهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ مِنِّي . فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ ؟ " قَالَ : وَجَدْتُهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ . ¤ فَقَالَ : " مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا . فَقَالَ : " أَنْتَ إِنْ أَدْرَكْتَهُ " . قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَهْ " . قَالَ : مَا وَجَدْتُهُ . ¤ قَالَ : " لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي رَجُلَانِ ، كَانَ أَوَّلَهُمْ وَآخِرَهُمْ " . ¤ قَالَ مُوسَى : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ : هُوَ الَّذِي قَتَلَهُ عَلِيٌّ ، ذُو الثِّدْيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جس کی عبادت گزاری اور عبادت میں محنت ہمیں اچھی لگتی تھی ہم نے اس کا نام لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ، تو نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پہچانا ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا ، تو آپ نے اسے نہیں پہچانا ابھی ہم اس کا ذکر کر ہی رہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ہم نے عرض کی : وہ یہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا ہے ، جس کے چہرے پر شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ، وہ شخص آیا اور ان حضرات کے پاس ٹھہر گیا اس نے سلام نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے زیادہ فضلیت نہیں رکھتا ہے اس نے جواب دیا اللہ جانتا ہے جی ہاں پھر وہ شخص اندر گیا اور نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اس شخص کو قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو انہوں نے سوچا سبحان اللہ کیا میں نماز ادا کرنے والے شخص کو قتل کر دوں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے وہ باہر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا کیونکہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ، اور آپ نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا وہ اندر گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے پیشانی زمین پر رکھی ہوئی تھی ( یعنی سجدے کی حالت میں تھا ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ( اگر انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ، تو میں بھی نہیں کرتا ) پھر وہ باہر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے پایا کہ اس نے اپنی پیشانی رکھی ہوئی تھی ، تو میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کر دو گے اگر تم اس تک پہنچ پائے راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ جا چکا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نہیں پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ شخص قتل ہو جاتا تو میری امت کے دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہیں ہونا تھا یہ ان ( اختلاف کرنے والوں میں ) پہلا اور آخری فرد ہونا تھا “ ۔ موسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن کعب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جس شخص کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا وہ ذو ثدیہ تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال میں سے بعض رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آئے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال میں سے بعض رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آئے گا ۔
حدیث نمبر: 10403
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : ¤ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ ، فَقَالُوا فِيهِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ قَدْ خَطَّ عَلَى نَفْسِهِ خُطَّةً وَهُوَ يُصَلِّي فِيهَا ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ رَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَرَآهُ فِي خَطِّهِ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَهُ - أَوْ : مَنْ يَقْتُلُهُ - ؟ " فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ ، وَلَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ " . فَانْطَلَقَ فَرَآهُ قَدْ ذَهَبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا لوگوں نے اس کے بارے میں کوئی بات کی اور اس کی تعریف بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، وہ گئے انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے اپنے لئے ایک لکیر لگائی ہے ، اور وہاں نماز ادا کر رہا ہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھا تو وہ واپس آ گئے ، اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، وہ گئے انہوں نے اس لکیر کو دیکھا کہ وہ شخص نماز ادا کر رہا ہے ، تو وہ واپس آ گئے ، اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے سنبھالے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون اسے قتل کرے گا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کر دو گے ، لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ نہیں خیال کہ تم اس تک پہنچ پاؤ گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص جا چکا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10404
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : ¤ أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ ، كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا مَنْ يُعْطِي - قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : يُؤَامِرُ أَحَدًا ثُمَّ يُعْطِي - وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَقَالَ : مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : " لَا " . ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینار لائے گئے آپ انہیں مٹھی میں بھر بھر کے دیکھنے لگے پھر آپ نے اپنے دائیں طرف دیکھا جیسے آپ کسی شخص کو دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوں یہاں عفان نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : کہ آپ کسی شخص کے بارے میں جائزہ لے رہے تھے کہ آپ وہ کس شخص کو دیں اسی دوران ایک سیاہ فام شخص جس کا سر مونڈا ہوا تھا ، اور اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا اس نے کہا: آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے آپ نے فرمایا : میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : یہ اور اس کے ساتھی دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 10405
وَعَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : ¤ خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَلَّمَهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ، فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " . قَالَ : لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ . قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي ، فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، دَعُوهُ ، فَإِنَّ لَهُ شِيعَةً يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا ، ثُمَّ فِي الْقَدَحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ فِي الْفَوْقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سِوَى الْفَرْثِ وَالدَّمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن نوفل رضی اللہ عنہ کے غلام مقسم بیان کرتے ہیں : میں اور تلید بن کلاب لیثی ، ہم نکلے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جو بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے جوتے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے ہم نے ان سے کہا: کیا آپ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب غزوہ حنین کے ( مال غنیمت کی تقسیم ) کے دن تمیمی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس کا نام ذوالخویصرہ تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صبح سے جو کر رہے ہیں وہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے تم نے کیا دیکھا ہے اس نے کہا: آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اگر عدل میرے پاس نہیں ہو گا ، تو پھر کس کے پاس ہو گا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے ، جو دین میں تعمق اختیار کریں گے ، یہاں تک کہ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے آدمی اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا پھر آدمی اس کی لکڑی کا جائزہ لیتا ہے ، تو کوئی چیز نہیں پائی جاتی ، پھر آدمی تار میں تیر کے لگنے کی جگہ کو دیکھتا ہے ، تو اس میں کوئی چیز نہیں پائی جاتی حالانکہ وہ لید اور خون میں سے گزرا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10406
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : ¤ لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ فَجِئْتُهُ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاشْتَدَّ النَّاسُ ، عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ " . حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرِ مَرَّاتٍ : " كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ مِنْهُمْ قُطِعَ ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . وَشَهَرٌ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب یزید بن معاویہ کی بیعت ہمارے پاس آئی ، تو میں شام آیا مجھے اس جگہ کے بارے میں بتایا گیا جہاں نوف کھڑے ہوتے تھے میں ان کے پاس آیا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا لوگوں نے جلدی کی اس شخص کے جسم پر ایک چادر تھی وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے جب نوف نے انہیں دیکھا تو حدیث بیان کرنے سے رک گیا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مشرق کی طرف سے عنقریب میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے ، جو قرآن کی تلاوت کریں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ان میں سے جب بھی کوئی گروہ نکلے گا ، تو وہ مار دیا جائے گا جب دوسرا گروہ نکلے گا ، تو وہ مار دیا جائے گا “ ۔ یہاں تک کہ انہوں نے دس سے زیادہ مرتبہ اس چیز کو شمار کروایا کہ جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا ، تو اسے مار دیا جائے گا ، یہاں تک کہ ان کے باقی بچ جانے والے لوگوں میں دجال نکلے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے شہر بن حوشب نامی راوی ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے شہر بن حوشب نامی راوی ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10407
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ قَالَ : ¤ كَانَ صَاحِبٌ لِي يُحَدِّثُنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ ، فَحَجَجْتُ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ : إِنَّكَ بَقِيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ عِنْدَكَ عِلْمًا ، إِنَّ نَاسًا يَطْعَنُونَ عَلَى أُمَرَائِهِمْ ، وَيَشْهَدُونَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ ، قَالَ : عَلَى أُولَئِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِقَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ، فَجَعَلَ يُقَسِّمُهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَئِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَكَ بِالْعَدْلِ ، فَلَمْ تَعْدِلْ . فَقَالَ : " وَيْلَكَ ، فَمَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ؟ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهَ هَذَا ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، فَإِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ " قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن وساج بیان کرتے ہیں : میرے ایک ساتھی نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خوارج کے بارے میں حدیث بیان کی ہے میں حج کے لئے گیا میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے افراد میں سے ایک ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم سے نوازا ہے کچھ لوگ اپنے حکمرانوں پر طعن کرتے ہیں ، اور ان کے بارے میں گمراہی کی گواہی دیتے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تھیلا لایا گیا آپ نے اسے اپنے اصحاب کے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا ، تو ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عدل کرنے کا حکم دیا ہے ، اور آپ پھر بھی عدل سے کام نہیں لے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا ؟ جب وہ شخص واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا پھر اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا “ ۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10408
وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : ¤ كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ . قَالَ : أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَرَأَتْ عَيْنَايَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ يُقَسِّمُهَا ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ ، مَطْمُومُ الشَّعْرِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ يَمِينِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ مُنْذُ الْيَوْمِ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ - كَانَ هَذَا مِنْهُمْ - هَدْيُهُمْ هَكَذَا ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ " . وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ " سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ " قَالَهَا ثَلَاثًا " شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ وَقَالَ حَمَّادٌ : " لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ " . ¤
محمد محی الدین
شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی صاحب سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں کوئی حدیث بیان کریں ایک مرتبہ عرفہ کے دن میری ملاقات سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے میں نے کہا: اے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو ، تو انہوں نے جواب دیا : میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں گا ، جو میرے کانوں نے سنی ہے ، اور میری آنکھیں اس وقت دیکھ رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینا رلائے گئے آپ نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا آپ کے پاس ایک سیاہ فام شخص موجود تھا جس کے بال مونڈے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا وہ سامنے کی طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ دائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ پیچھے کی طرف سے آپ کی طرف آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی قسم آج آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم تم میرے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤ گے ، جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ عادل ہو یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے یہ بھی ان میں سے ایک لگتا ہے ان کی ظاہری ہیئت اس کی مانند ہو گی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یا راوی صحابی نے ) اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ( اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ان کی مخصوص نشانی سر مونڈوانا ہو گی وہ مسلسل دین سے نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی دین سے نکل جائے گا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) وہ خلق اور خلیقہ ( یعنی ہر قسم کی ساری مخلوق ) میں بدترین ہوں گے یہ بات بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہاں حماد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس ( دین ) میں واپس نہیں آئیں گے “ ۔
حدیث نمبر: 10409
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الدَّجَّالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَالْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ مسلسل نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کے آخری افراد دجال کے ساتھ نکلیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ازرق بن قیس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ازرق بن قیس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10410
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ - : ¤ " إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ فَيَدْأَبُونَ حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ ، وَتُعْجِبَهُمْ أَنْفُسُهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ( آپ نے فرمایا : ) ” تمہارے درمیان کچھ لوگ ہوں گے ، جو عبادت کرتے ہوئے اتنا اہتمام کریں گے کہ لوگوں کو وہ اچھا لگے گا اور وہ خود پسندی کا شکار بھی ہوں گے وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10411
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " . قَالَ يَزِيدُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : " يُحَقِّرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرُ ، وَأَنَا أَسْمَعُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کے اعمال برے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، یزید کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے عمل کو ان لوگوں کے عمل کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا وہ لوگ اہل اسلام کو قتل کریں گے جب وہ خروج کریں گے ، تو تم انہیں قتل کرنا پھر اگر وہ نکلیں گے ، تو تم انہیں قتل کرنا ، پھر اگر وہ نکلیں گے ، تو تم انہیں قتل کرنا کیونکہ جو شخص انہیں قتل کرے گا اس کے لئے مبارک باد ہے ، اور جس شخص کو وہ قتل کریں گے اس کے لئے بھی مبارکباد ہے جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ختم کروا دے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بیس مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ دہرائی اور میں یہ بات سن رہا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 10412
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْقُرْآنَ كَشُرْبِهِمُ اللَّبَنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رحمہ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے ، جو قرآن کو یوں پئیں گے ، جس طرح دودھ پیتے ہیں ( یعنی بکثرت اس کی تلاوت کریں گے ) “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10413
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثِبَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے زیادہ تر منافق اس کے قاری ( یعنی قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ۔
حدیث نمبر: 10414
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے زیادہ تر منافق ، اس کے قاری ( یعنی قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اسی طرح امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اسی طرح امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10415
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے زیادہ تر منافق اس کے قاری ( قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10416
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " إِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعٌ " . حَتَّى ذَكَرَ عِشْرِينَ مَرَّةً وَزِيَادَةً : " حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ يَخْرُجُ مَعَ الدَّجَّالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے درمیان ایک قوم آئے گی جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا جب ان میں سے کوئی ایک گروہ سامنے آئے گا ، تو وہ کاٹ دیا جائے گا “ ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس مرتبہ سے زیادہ یہ بات ذکر کی اور فرمایا : ” یہاں تک کہ ان میں سے آخری لوگ دجال کے ساتھ نکلیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 10417
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ حَتَّى يَكُونَ مَعَ بَقِيَّتِهِمُ الدَّجَّالُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ قرآن پڑھیں گے وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا جب ان میں سے ایک گروہ ( یا نسل ) ختم ہو جائے گی تو دوسرا گروہ قتل ہو جائے گا ، یہاں تک کہ ان کے بقیہ افراد دجال کے ساتھ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10418
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ : ¤ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مَجْزُوزُ الرَّأْسِ - أَوْ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ - قَالَ : مَا عَدَلْتَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ أَنَا ؟ " . ¤ قَالَ : فَغَفَلَ عَنِ الرَّجُلِ ، فَذَهَبَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ ؟ " . فَطُلِبَ فَلَمْ يُدْرَكْ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ سِيمَاهُمْ سِيمَا هَذَا ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، يَنْظُرُ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، يَنْظُرُ فِي فَوْقِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کا سر مونڈا ہوا تھا اس نے کہا: آپ نے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں عدل نہیں کروں گا ، تو پھر کون عدل کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس شخص سے ہٹ گئی اور وہ شخص چلا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے لوگوں نے اسے تلاش کیا لیکن وہ اس تک نہیں پہنچ پائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کی مخصوص نشانی اس کے جیسی ہو گی ( یعنی وہ سر مونڈواتے ہوں گے ) وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اگر آدمی تیر کی لکڑی کا جائزہ لے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ، اگر وہ اس کے پروں کو دیکھے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ، اگر وہ اس کے فوق کو دیکھے تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10419
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصَرِيِّ : إِنَّ الصُّرَيْمَ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ بِالْبِدَارِ - قَرْيَةٍ بِالْبَصْرَةِ - وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ ، مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَوَلَدُهُ وَجَارِيَتُهُ ، فَقَالَ : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسْأَلُهُ عَنْ حَالِنَا وَأَمْرِنَا وَمَخْرَجِنَا ؟ فَقَالُوا : بَلَى . فَانْصَرَفُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : أَلَا تُخْبِرُنَا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا شَيْئًا ؟ فَقَالَ : أَمَّا فِيكُمْ بِأَعْيَانِكُمْ فَلَا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ ، شَرُّ قَتْلَى أَظَلَّتْهُمُ السَّمَاءُ وَأَقَلَّتْهُمُ الْأَرْضُ ، كِلَابُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْكَلَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي لَهُ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن ابوالحسن بصری بیان کرتے ہیں : صریم کی ملاقات ” بدار “ کے مقام پر عبداللہ بن خباب سے ہوئی یہ بصرہ کی ایک بستی ہے وہ صاحب اس وقت کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بچے اور کنیز بھی تھے انہوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ہیں ہمیں ان سے اپنی حالت اپنے معاملے اور اپنے نکلنے کے بارے میں دریافت کرنا چاہیے لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے وہ لوگ ان کی طرف چلے گئے انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں بتائیں گے نہیں کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک بطور خاص تمہارے بارے میں کا تعلق ہے وہ تو نہیں سنا لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ، جو قرآن کی تلاوت کریں گے وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے نکل جائیں گے ، اور پھر وہ دوبارہ اس میں اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک تیر اپنے نکلنے کی جگہ تک واپس نہیں آتا اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ۔ جسے وہ لوگ قتل کریں گے وہ ( یعنی خوارج ) آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر موجود بدترین مقتول ہوں گے ، اور جہنم کے کتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر کلاعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر کلاعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 10420
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ ، لَا يَتَجَاوَزُ تَرَاقِيَهُمْ ، أَلَا إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ رَوَاهُ أَيْضًا ، وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے سوال کیا : کیا آپ نے خوارج کے بارے میں کوئی بات سنی ہے ۔ انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” خبردار ! عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے ، جو سخت اور تیز ہوں گے ، اُن کی زبانیں قرآن کے حوالے سے بلیغ ( یا تیز ہوں گی اور وہ قرآن اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، خبردار ! جب تم انہیں دیکھو تو انہیں مار دینا ، جب تم انہیں دیکھو ، تو انہیں مار دینا ، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور اسی طرح امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور اسی طرح امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10421
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : ¤ لَمَّا قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَنَائِمَ هَوَازِنَ ، قَامَ رَجُلٌ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلُ هَذَا الْمُنَافِقَ ؟ قَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ ، أَتَتَسَامَعُ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کا مال غنیمت تقسیم کیا ، تو ایک شخص کھڑا ہوا راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اٹھ کر اس منافق کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو یہ کہتے پھریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10422
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَخَطَبَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، وَكَانَ مَنْ أَقْرَأِ النَّاسِ . فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن ملیل سلیحی بیان کرتے ہیں : جمعہ کے دن میں منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا محمد بن ابوحذیفہ نکلا اور منبر پر کھڑا ہو گیا اس نے خطبہ دینا شروع کیا پھر اس نے لوگوں کے سامنے قرآن کی کوئی سورت تلاوت کی اور وہ سب سے عمدہ تلاوت کرتا تھا تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ ایسے لوگ ضرور قرآن پڑھیں گے کہ وہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10423
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " تَكُونُ خَلَفٌ بَعْدَ السِّتِّينَ أَضَاعُوا الصَّلَوَاتِ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، ثُمَّ يَكُونُ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ : مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ " . ¤ قَالَ بَشِيرٌ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ : مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ساٹھ ( سال ) کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ، جو نماز ضائع کریں گے نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے ، اور وہ عنقریب جہنم میں پہنچ جائیں گے پھر ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا قرآن تین قسم کے لوگ پڑھیں گے مومن ، منافق اور فاجر “ ۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے ولید سے دریافت کیا : ان تین قسم کے لوگوں سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : منافق سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس کا انکار کرتا ہو فاجر سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس کا معاوضہ کھاتا ہو ، اور مومن سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10424
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے ان کے ساتھ جنگ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ان کے ساتھ جنگ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ان کے ساتھ جنگ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10425
وَعَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : ¤ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ : لَا يَغُرَّنَّكَ هَؤُلَاءِ ، إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ الْيَوْمَ ، وَيَتَجَالَدُونَ بِالسُّيُوفِ غَدًا ، ثُمَّ قَالَ : ائْتِنِي بِنَفَرٍ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ ، وَلْيَكُونُوا شُيُوخًا . فَأَتَيْتُهُ بِنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، وَأَتَيْتُهُ بِمِرْدَاسِ بْنِ بِلَالٍ ، وَبِنَفَرٍ مَعَهُمَا ، سِتَّةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَى جُنْدَبٍ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَثَلُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ الْمِصْبَاحِ الَّذِي يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ ، وَمَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ بَطْنُهُ ، فَلَا يُدْخِلْ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ فَلْيَفْعَلْ " . ¤
محمد محی الدین
صفوان بن محرز نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو قرآن پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں یہ لوگ آج قرآن پڑھ رہے ہیں ، اور کل تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں گے پھر انہوں نے فرمایا : میرے پاس قرآن پڑھنے والے کچھ لوگوں کو لے کر آؤ اور وہ بڑی عمر کے لوگ ہونے چاہیں راوی کہتے ہیں : تو میں نافع بن ازرق کو ان کے پاس لے کر آیا اور مرداس بن بلال کو ان کے پاس لے کر آیا اور ان دونوں کے ساتھ کچھ اور لوگوں کو لے کر آیا جو چھ یا آٹھ افراد تھے جب ہم سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ، اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اس کی مثال چراغ کی مانند ہے جو لوگوں کے لئے روشنی کرتا ہے ، اور اپنے آپ کو جلا دیتا ہے ، اور جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے دکھاوا کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، تم یہ بات جان لو کہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے ، تو سب سے پہلے اس کے وجود میں سے پیٹ بدبودار ہوتا ہے ، تو آدمی کو اپنے پیٹ میں صرف پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون بھی رکاوٹ نہ بنے تو اسے ایسا کرنا چاہیے “ ۔
حدیث نمبر: 10426
وَفِي رِوَايَةٍ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ قَوْمًا أَحَقَّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا : لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِي الْأُخْرَى عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَلْبِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں نے بات چیت شروع کی انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ کر ان کی باتیں سنتے رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی قوم نہیں دیکھی جو نجات کی زیادہ حق دار ہو اگر یہ لوگ سچے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے جبکہ دوسری میں ایک راوی علی بن سلیمان کلبی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے جبکہ دوسری میں ایک راوی علی بن سلیمان کلبی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10427
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يُوشِكُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ قَوْمٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَشْرَبُونَهُ كَشُرْبِهِمُ الْمَاءَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ " . ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى حَلْقِهِ ، فَقَالَ : " لَا يُجَاوِزُ هَاهُنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ اسے یوں پئیں گے ، جس طرح وہ پانی پیتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یا راوی نے ) اپنا ہاتھ اپنے حلق پر رکھ کر یہ ارشاد فرمایا : ” وہ یہاں سے آگے نہیں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10428
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے کچھ ضرور قرآن پڑھیں گے ، اور وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10429
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ : ¤ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ وَالِدُكَ ؟ قُلْتُ : قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كِلَابُ النَّارِ " . قُلْتُ : الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَوِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ؟ قَالَ : بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا . ¤ قُلْتُ : فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ ، وَيَفْعَلُ ؟ فَتَنَاوَلَ بِيَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا ابْنَ جُمْهَانَ ، عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ، فَإِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ ، فَلَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَحْمَدَ فِي كَيْفِيَّةِ النُّصْحِ لِلْأَئِمَةِ فِي الْخِلَافَةِ بِأَسَانِيدَ ، ، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن ابوعوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی میں نے انہیں سلام کیا ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ۔ انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے بتایا : ازارقہ نے انہیں قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ جہنم کے کتے ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ یہ ہیں یا تمام خوارج ایسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ( جہنم کے کتے ہیں ) ۔ میں نے کہا: حاکم وقت اگر لوگوں پر ظلم کرتا ہے ، اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ( تو کیا وہ بھی اس میں شامل ہو گا ؟ ) تو انہوں نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور پھر زور سے ٹہوکہ دے کر پھر فرمایا : اے ابن جمہان تم پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے اگر سلطان تمہاری بات سنتا ہے ، تو تم اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے بتا دو اگر وہ تمہاری بات قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف خوارج کے جہنم کے کتے ہونے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے امام أحمد کی نقل کردہ ایک حدیث گزر چکی ہے ، جو خلافت کے بارے میں حکمرانوں کی خیرخواہی کی کیفیت کے بارے میں ہے یہ مختلف اسانید کے ساتھ نقل ہوئی ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے امام أحمد کی نقل کردہ ایک حدیث گزر چکی ہے ، جو خلافت کے بارے میں حکمرانوں کی خیرخواہی کی کیفیت کے بارے میں ہے یہ مختلف اسانید کے ساتھ نقل ہوئی ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10430
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا : ¤ " يُوشِكُ أَنْ يَجِيءَ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ " . ¤ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ سَيَخْرُجُونَ بِأَرْضِ قَوْمِكَ يَا يَمَامِيُّ يُقَاتِلُونَ بَيْنَ الْأَنْهَارِ " . قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي مَا بِهَا مِنْ أَنْهَارٍ . قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ہم سے ارشاد فرمایا : ” عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ، جسے وہ قتل کریں گے “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ عنقریب تمہاری قوم کی سرزمین سے نکلیں گے اے یمامی اور وہ لوگ نہروں کے درمیان جنگ کریں گے میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہاں تو نہریں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہاں عنقریب ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے علی بن یحیی بن اسماعیل کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے علی بن یحیی بن اسماعیل کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10431
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَأَقْتُلَنَّ الْعَمَالِقَةَ فِي كَتِيبَةٍ " . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں عنقریب عمالقہ کو ایک لشکر میں قتل کروں گا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔