حدیث نمبر: 10400
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : ¤ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ ، حَسَنُ الْهَيْئَةِ ، يُصَلِّي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . فَذَهَبَ عُمَرُ ، فَرَآهُ عَلَى الْحَالِ الَّذِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَرَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ . ¤ قَالَ : " يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ، فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ ، فَرَجَعَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَرَهُ . ¤ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فَوْقِهِ ، فَاقْتُلُوهُمْ ، هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گزر فلاں فلاں وادی سے ہوا وہاں ایک خشوع و خضوع والا شخص موجود تھا جس کی ظاہری حالت اچھی تھی وہ نماز ادا کر رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف گئے جب انہوں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا تو اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے انہوں نے اس شخص کو اسی حالت میں دیکھا جس حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ بھی واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے دیکھا کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی تم جاؤ اور اسے قتل کر دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے لیکن انہیں وہ شخص نظر نہیں آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وہ نظر نہیں آیا راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور پھر وہ دین میں واپس اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان میں اپنی جگہ پر واپس نہیں آتا تم ان لوگوں کو قتل کرنا کیونکہ وہ مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (15/3)»