مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَرُومِيَّةَ باب: قسطنطنیہ اور رومیہ کی فتح
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ : ¤ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسُئِلَ : أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا : الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ قَالَ : فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصُنْدُوقٍ لَهُ حِلَقٌ ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا " ، يَعْنِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي قَبِيلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوقبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے دریافت کیا گیا : کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ راوی کہتے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوق منگوایا انہوں نے اس میں سے ایک تحریر نکالی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے نوٹ کر رہے تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا دو شہروں میں سے کونسا شہر فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرقل کا شہر پہلے فتح ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد قسطنطنیہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوقبیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔