مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ فَتْحِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَرُومِيَّةَ باب: قسطنطنیہ اور رومیہ کی فتح
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبُولَانَ ، يَا عَلِيُّ " ، قَالَ الْمُزَنِيُّ : يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ ، وَيُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَوْقَةُ الْمُسْلِمِينَ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ، فَيَهُدُّوا حِصْنَهُمَا ، وَيُصِيبُوا مَالًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ ، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالتِّرْسَةِ . ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ : يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ ، فَيَنْقَبِضُ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ ، فَالْآخِذُ نَادِمٌ ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ ، ثُمَّ يَقُولُونَ : مَنْ هَذَا الصَّارِخُ ؟ وَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ ، فَيَقُولُونَ : ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَسَيَأْتِيكُمْ بِعِلْمِهِ ، فَيَأْتُونَ فَيُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا ، وَيَرَوْنَ النَّاسَ سَاكِتِينَ ، فَيَقُولُونَ : مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا إِلَيْنَا ، فَاعْتَزِمُوا ثُمَّ ارْشُدُوا ، فَنَخْرُجُ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ ، وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کا رابطہ بولان نامی جگہ پر نہیں ہو گا ، اے علی ! مزنی نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ تم لوگ بنو اصفر کے ساتھ عنقریب جنگ کرو گے ، اور تم لوگوں کے بعد اہل ایمان ان لوگوں کے ساتھ جنگ کریں گے پھر مسلمانوں کے کچھ لوگ جن کا تعلق اہل حجاز سے ہو گا وہ نکل کر ان کی طرف چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ، جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا وہ لوگ ان دونوں علاقوں کے قلعوں کو منہدم کر دیں گے ، اور وہاں سے بہت سا مال انہیں ملے گا اس طرح کا مال پہلے انہیں کبھی نہیں ملا ہو گا ، یہاں تک کہ وہ ڈھال تک تقسیم کر لیں گے پھر کوئی شخص پکار کر کہے گا اے اہل اسلام تمہارے علاقوں میں اور تمہارے بال بچوں میں دجال نکل آیا ہے ، تو لوگ اس مال کو چھوڑیں گے کچھ اس مال کو لے لیں گے ، اور کچھ اس مال کو چھوڑ دیں گے ، تو جو لے گا وہ ندامت کا شکار ہو گا اور جو چھوڑ دے گا وہ بھی ندامت کا شکار ہو گا پھر وہ یہ کہیں گے یہ چیخنے والا شخص کون ہے وہ لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ کون ہو گا پھر وہ کہیں گے کہ تم مقام ’ لد ، کی طرف کسی جاسوس کو بھیجو اگر تو دجال نکل چکا ہوا تو تمہیں اس کے بارے میں اطلاع مل جائے گی پھر وہ لوگ آئیں گے ، اور اس کو دیکھیں گے ، تو وہاں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی وہ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ خاموش ہوں گے ، تو وہ یہ کہیں گے کہ چیخنے والے نے صرف ہماری طرف متوجہ ہو کر چیخ ماری تھی تو تم لوگ پختہ ہو جاؤ اور ہدایت پر رہو ہم سب نکل کر ’ لد ، کی طرف جاتے ہیں اگر وہاں دجال موجود ہوا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ، اور اگر صورت حال مختلف ہوئی ، تو وہ تمہارا علاقہ ہے ، اور تمہارا خاندان ہے تمہارے لشکر ہیں تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ۔ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔