حدیث نمبر: 10383
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : ¤ خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ ، فَقَالَ صَاحِبُهَا : أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا مِنْكُمْ أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي ، فَخَرَجْتُ وَمَعِي تَرْجُمَانٌ ، وَمَعَهُ تُرْجُمَانٌ ، حَتَّى وُضِعَ لَهُ مِنْبَرَانِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ . فَقُلْنَا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا ، وَأَشَدَّهُ عَيْشًا ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، بَشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا ، وَلَا أَكْثَرِنَا مَالًا ، فَقَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ " ، يَأْمُرُنَا بِمَا لَا نَعْرِفُ ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا ، فَشَنِفْنَا لَهُ ، وَكَذَّبْنَاهُ ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا ، فَقَالُوا : نَحْنُ نُصَدِّقُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَّبِعُكَ ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقَاتَلْنَاهُ فَقَتَلَنَا ، وَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا ، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا جَاءَكُمْ حَتَّى يُشْرِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ . فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَكُمْ بِهِ رَسُولُكُمْ ، فَكُنَّا عَلَيْهِ ، حَتَّى ظَهَرَ فِينَا مُلُوكٌ ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ ، لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ . فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا ، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ ، خُلِّيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ، فَلَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ مِنَّا عَدَدًا ، وَلَا أَشَدَّ مِنَّا قُوَّةً . قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا أَذْكَى مِنْهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان کا امیر تھا ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا وہاں کے حکمران نے کہا: کہ اپنے میں سے ایک شخص کو میری طرف بھیجو تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات چیت کرے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: میرے علاوہ کوئی اور اس کی طرف نہیں جائے گا میں نکلا میرے ساتھ ایک ترجمان تھا ، اور اس کے ساتھ بھی ایک ترجمان تھا وہاں دو منبر رکھے گئے اس نے دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ہم نے کہا: ہم عرب ہیں ہم پتوں اور کانٹوں میں رہنے والے لوگ ہیں ہم اللہ کے گھر کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں ہم سب سے زیادہ تنگی والی زندگی گزارتے تھے اور سب سے زیادہ مشکل زندگی گزارتے تھے ہم مردار کھا لیتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے تھے اور ہماری حالت بری تھی ایسی بری ترین حالت جس کے ساتھ لوگ زندہ رہ رہے ہوں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت ہمارے درمیان نمایاں حیثیت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی زیادہ مال دار تھے انہوں نے یہ کہا: کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ انہوں نے ہمیں ان چیزوں کا حکم دیا جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم قائم تھے اور جس پر ہمارے آباؤ اجداد قائم تھے ، تو ہم نے ان کی بات کی مخالفت کی اور انہیں غلط قرار دیا ، اور ہم نے ان کی گفتگو کو مسترد کیا ، یہاں تک کہ ایک اور قوم نکل کر ان کے پاس آئی انہوں نے کہا: کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں ، اور آپ پر ایمان لاتے ہیں ہم آپ کی پیروی کرتے ہیں جو شخص آپ کے ساتھ جنگ کرے گا ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، تو وہ رسول نکل کر ان لوگوں کی طرف چلے گئے پھر ہم نکل کر ان کی طرف گئے ہم نے ان کے ساتھ جنگ کی انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم پر غلبہ حاصل کر لیا پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور انہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ، یہاں تک کہ ان پر غلبہ پا لیا اگر میرے پیچھے موجود افراد کو یہ بات پتہ چل جائے کہ تم کس طرح کی زندگی گزار رہے ہو ، تو ان میں سے ہر ایک شخص تمہارے پاس آ جائے گا اور تم جن نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہو وہ اس میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا ، تو اسکندریہ کا وہ حکمران ہنس پڑا اور بولا: تمہارے رسول نے سچ فرمایا تھا ہمارے پاس بھی رسول آئے تھے اور اسی طرح کی چیزیں لے کے آئے تھے جو تمہارے رسول تمہارے پاس لے کے آئے تھے ہم ان امور پر گامزن رہے ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان بادشاہوں کا غلبہ ہو گیا تو انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا شروع کر دی اور انبیاء کے حکم کو ترک کر دیا اگر تم لوگ اپنے نبی کے حکم کی پیروی کرتے رہو گے ، تو تم جس کے ساتھ بھی جنگ کرو گے اس پر غالب آ جاؤ گے ، جو شخص تمہارے درپے ہو گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے ، اور جب تم بھی وہ کام کرو گے ، جو ہم نے کرنے شروع کیے تھے ، تو تم انبیاء کے حکم کو ترک کر دو گے ، اور تم ان لوگوں کی طرح عمل کرنا شروع کر دو گے جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی تھی تو پھر تم بھی پسپا ہو جاؤ گے کیونکہ تم لوگ تعداد کے اعتبار سے ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اور قوت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ نہیں ہو ۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کبھی ایسے شخص کے ساتھ کلام نہیں کیا جو اس سے زیادہ سمجھ دار ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔