کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: گھوڑے اور اس کو باندھنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَرَسٌ يَرْتَبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قِيمَتُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ ، وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ ، وَعَلَفُهُ أَجْرٌ ، وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ ، قِيمَتُهُ وِزْرٌ وَرُكُوبُهُ وِزْرٌ وَعَارِيَتُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ ، وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ تَكُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ خَبَّابٍ الَّذِي رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ قَبْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک گھوڑا وہ ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں باندھتا ہے ، تو اس کی قیمت اجر ہو گی اس پر سواری کرنا اجر ہو گا اسے عاریت کے طور پر دینا اجر ہو گا اس کا چارہ اجر ہو گا ایک وہ گھوڑا ہے جسے آدمی مقابلے کے لیے اور دوڑ کے لئے ( یعنی جوئے کے لئے رکھتا ہے ) اس کی قیمت بوجھ ( یعنی گناہ ) ہو گی اس پر سواری گناہ ہو گی اسے عاریت کے طور پر دینا گناہ ہو گا اس کا چارہ گناہ ہو گا ایک وہ گھوڑا ہے جسے آدمی ( ذاتی ) استعمال کے لئے رکھتا ہے ، تو وہ آدمی کو غربت سے بچا لیتا ہے اگر اللہ چاہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے وہ اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے وہ اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ ؛ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِي يَرْتَبِطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَعَلَفُهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ - وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ - وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُقَامِرُ عَلَيْهِ وَيُرَاهِنُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا فَهِيَ سَتْرٌ مِنْ فَقْرٍ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، فَإِنْ كَانَ الْقَاسِمُ بْنُ حَسَّانَ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک گھوڑا رحمن کے لئے ہوتا ہے ایک گھوڑا انسان کے لئے ہوتا ہے اور ایک گھوڑا شیطان کے لئے ہوتا ہے ، تو جہاں تک رحمن والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں باندھتا ہے اس کا چارہ اس کا پیشاب اور اس کی لید اس کے بعد جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے ذکر کیں جہاں تک شیطان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جس پر آدمی جوا کھیلتا ہے اور اسے گھڑ دوڑ میں لے جاتا ہے جہاں تک انسان سے متعلق گھوڑے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ گھوڑا ہے جسے انسان باندھتا ہے اور وہ اس کی افزائش نسل چاہتا ہے ، تو یہ غربت سے بچاؤ کا ذریعہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگر قاسم بن حسان نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، تو پھر یہ حدیث ” صحیح “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگر قاسم بن حسان نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، تو پھر یہ حدیث ” صحیح “ ہے ۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنِ ارْتَبَطَهَا عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا احْتِسَابًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ شِبَعَهَا وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا فَلَاحٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنِ ارْتَبَطَهَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا وَرِيَّهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا خُسْرَانٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ شَهْرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے ہمیشہ کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے ، جو شخص اسے اللہ کی راہ میں ( جہاد میں حصہ لینے کی ) تیاری کے لئے باندھتا ہے اور اللہ کی راہ میں ثواب کی امید رکھنے کے لئے اس پر خرچ کرتا ہے ، تو اس گھوڑے کا سیر ہونا ، سیراب ہونا ، پیاسا ہونا ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، قیامت کے دن اس شخص کے میزان میں کامیابی کا باعث ہو گا ، اور جو شخص ریاء کاری دکھاوے ، خوشی کے اظہار ، خوشحالی کے لئے اسے باندھتا ہے ، تو اس گھوڑے کا کھانا ، بھوکا ہونا ، اس کا سیراب ہونا ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، قیامت کے دن اس شخص کے میزان میں خسارے کا باعث ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالنُّبْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا ، وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ ، وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ" . قَالَ عَلِيٌّ : " وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْثَانَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور فضیلت ( یا نجابت ) باندھ دی گئی ہیں ، اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے تم لوگ ان کی پیشانیوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کے لئے برکت کی دعا کرو ، اور انہیں ہار پہناؤ لیکن انہیں تار نہ پہنانا “ ۔ علی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم ان کے گلے میں بت نہ ڈالنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔