حدیث نمبر: 9337
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَرَسٌ يَرْتَبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قِيمَتُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ ، وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ ، وَعَلَفُهُ أَجْرٌ ، وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ ، قِيمَتُهُ وِزْرٌ وَرُكُوبُهُ وِزْرٌ وَعَارِيَتُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ ، وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ تَكُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ خَبَّابٍ الَّذِي رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ قَبْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک گھوڑا وہ ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں باندھتا ہے ، تو اس کی قیمت اجر ہو گی اس پر سواری کرنا اجر ہو گا اسے عاریت کے طور پر دینا اجر ہو گا اس کا چارہ اجر ہو گا ایک وہ گھوڑا ہے جسے آدمی مقابلے کے لیے اور دوڑ کے لئے ( یعنی جوئے کے لئے رکھتا ہے ) اس کی قیمت بوجھ ( یعنی گناہ ) ہو گی اس پر سواری گناہ ہو گی اسے عاریت کے طور پر دینا گناہ ہو گا اس کا چارہ گناہ ہو گا ایک وہ گھوڑا ہے جسے آدمی ( ذاتی ) استعمال کے لئے رکھتا ہے ، تو وہ آدمی کو غربت سے بچا لیتا ہے اگر اللہ چاہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے وہ اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3757)»