حدیث نمبر: 9339
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنِ ارْتَبَطَهَا عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا احْتِسَابًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ شِبَعَهَا وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا فَلَاحٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنِ ارْتَبَطَهَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا وَرِيَّهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا خُسْرَانٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ شَهْرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے ہمیشہ کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے ، جو شخص اسے اللہ کی راہ میں ( جہاد میں حصہ لینے کی ) تیاری کے لئے باندھتا ہے اور اللہ کی راہ میں ثواب کی امید رکھنے کے لئے اس پر خرچ کرتا ہے ، تو اس گھوڑے کا سیر ہونا ، سیراب ہونا ، پیاسا ہونا ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، قیامت کے دن اس شخص کے میزان میں کامیابی کا باعث ہو گا ، اور جو شخص ریاء کاری دکھاوے ، خوشی کے اظہار ، خوشحالی کے لئے اسے باندھتا ہے ، تو اس گھوڑے کا کھانا ، بھوکا ہونا ، اس کا سیراب ہونا ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، قیامت کے دن اس شخص کے میزان میں خسارے کا باعث ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (455/6)»