کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گھوڑوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9320
عَنْ سُوِيدِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي رِوَايَةٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ مَالُ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ ، أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سوید بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی کے مال میں سب سے بہتر چیز ، حکم ماننے والا گھوڑا اور پیوند کاری والا کھجور کا درخت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9320
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6470 و 6471) اخرجه احمد فى المسند (468/3)»
حدیث نمبر: 9321
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَيْلِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ عَقْرًا الْإِبِلِ وَالنِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کوئی بھی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک گھوڑوں سے زیادہ محبوب نہیں تھی پھر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! معافی کا سوال ہے اونٹ اور خواتین بھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9321
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9322
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9322
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1686) اخرجه احمد فى المسند (39/3)»
حدیث نمبر: 9323
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : "يَا أَبَا ذَرٍّ اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ، لَعَنَاقٌ تَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ . يَا أَبَا ذَرٍّ اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ ؛ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ كَذَا وَكَذَا . اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أَقُولُ لَكَ ؛ إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، أَوْ إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! میں جو تم سے کہنے لگا ہوں ، اس کو یاد رکھنا ، بکری کا بچہ ، جو کسی مسلمان فرد کے پاس آئے یہ اس کے لئے اُحد پہاڑ کے سونا ہو کے ملنے سے زیادہ بہتر ہے جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ جائے اے ابوذر ! میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھنا کثرت والے لوگ قیامت کے دن قلت والے ہوں گے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو یہ کرے اور یہ کرے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ) اے ابوذر میں جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھنا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بے شک گھوڑے کی پیشانی میں بھلائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسود غفاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9323
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (181/5)»
حدیث نمبر: 9324
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَثَلُ الْمُنْفِقِ عَلَيْهَا كَالْمُتَكَفِّفِ بِالصَّدَقَةِ" . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ : " صَدَقَةُ النَّفَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تک کے لئے گھوڑے کی پیشانی میں بھلائی باندھ دی گئی ہے اور گھوڑے پر خرچ کرنے والے کی مثال صدقہ کرنے کے لئے ہاتھ میں ( کوئی چیز رکھنے والے کی ) مانند ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے : ” خرچ کا صدقہ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6014)»
حدیث نمبر: 9325
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغَنَمُ بَرَكَةٌ ، وَالْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا، وَالْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَعَبْدُكَ أَخُوكَ فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ وَإِنْ وَجَدْتَهُ مَغْلُوبًا فَأَعِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بکریاں برکت ہوتی ہیں اونٹ اپنے مالکان کے لئے عزت کا باعث ہوتے ہیں اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی ہے اور تمہارا غلام تمہارا بھائی ہے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تم اسے پاؤ کہ وہ کوئی کام نہیں کر پا رہا تو اس کی مدد کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1685)»
حدیث نمبر: 9326
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” گھوڑے کی پیشانی میں برکت ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتاب بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1687)»
حدیث نمبر: 9327
وَعَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي : "إِذَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ لَا يَعْبِطُوا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب تم اپنے اہل خانہ کی طرف واپس جاؤ تو انہیں یہ کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراشیں اور اپنے جانوروں کے تھنوں کو ( بڑے ناخنوں کے ذریعے ) زخمی نہ کریں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1688) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6480 و 6482)»
حدیث نمبر: 9328
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا وَالْمُنْفِقُ عَلَيْهَا كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے اور ان پر خرچ کرنے والے کی مثال صدقہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھانے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/22)»
حدیث نمبر: 9329
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالْيُمْنُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا ، قَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ أَتَمَّ مِنْهُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَيَأْتِي بَعْدَ هَذَا بِبَابٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور برکت باندھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے تم انہیں ہار پہناؤ لیکن انہیں تار نہ پہنانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں وہ ایک باب کے بعد آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه أحمد فى المسند (352/3)»
حدیث نمبر: 9330
وَعَنْ عَرِيبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالنُّبْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا ، وَالْمُنْفِقُ عَلَيْهَا كَالْبَاسِطِ يَدَهُ فِي الصَّدَقَةِ ، وَأَبْوَالُهَا وَأَرْوَاثُهَا لِأَهْلِهَا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِسْكِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عریب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور برکت باندھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے اور ان پر خرچ کرنے والے کی مثال صدقہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھانے والے کی مانند ہے ان کا پیشاب اور ان کی لید ان کے مالکان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جنت کی مشک سے بنے ہوئے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9330
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1088) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (188/17)»
حدیث نمبر: 9331
وَعَنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زِيَادٍ التَّيْمِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوزیاد تیمی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9332
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا وَمَنْ رَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتِ النَّفَقَةُ عَلَيْهِ كَالْمَادِّ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ¤
محمد محی الدین
حسن بن ابوالحسن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے انہوں نے سیدنا ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے ، جو شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھتا ہے ، تو اس پر خرچ کرنا اپنے ہاتھ کو صدقہ کرنے کے لئے بڑھانے والے کی مانند ہے جسے وہ بند نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9332
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صرف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5623)»
حدیث نمبر: 9333
وَعَنْ سَوَادَةَ بْنِ رَبِيعٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لِي بَذَوْدٍ وَقَالَ " عَلَيْكَ بِالْخَيْلِ فَإِنَّ الْخَيْلَ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ الْجَرْمِيِّ عَنْ سَوَادَةَ، وَسُلَيْمَانُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سوادہ بن ربیع جرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا اور پھر ارشاد فرمایا : تم پر گھوڑے رکھنا لازم ہے ، کیونکہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سلیمان جرمی کے حوالے سے سیدنا سوادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے سلیمان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9333
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6482)»
حدیث نمبر: 9334
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسٌ ، فَوَهَبَهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانَ يَسْمَعُ صَهِيلَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ فَقَدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "مَا فَعَلَ فَرَسُكَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَصَيْتُهُ . فَقَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، نَوَاصِيهَا دِفَاؤُهَا وَأَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ يَحْيَى الْمَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا تھا آپ نے وہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو ہبہ کر دیا آپ اس کے ہنہنانے کی آواز سنا کرتے تھے ، پھر آپ نے اس ( آواز ) کو غیر موجود ، پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : تمہارے گھوڑے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے خصی کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور غنیمت ہے ، ان کی پیشانیاں ان کی گرمائش کا ذریعہ ہیں ، اور ان کی دمیں ، اُن کا مکھیاں اُڑانے کا ذریعہ ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی راشد بن یحیی مرینی ہے جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور ( دوسرے راویوں کے ) برخلاف نقل کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7994)»
حدیث نمبر: 9335
وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ . فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَمَا اتُّخِذَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقُوتِلَ عَلَيْهِ أَعْدَاءُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَمَا اسْتُبْطِنَ وَيُحْمَلُ عَلَيْهِ . وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَمَا رُوهِنَ عَلَيْهِ وَقُومِرَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک گھوڑا رحمان کے لئے ہوتا ہے ایک گھوڑا انسان کے لیے ہوتا ہے ۔ ایک گھوڑا شیطان کے لئے ہوتا ہے جہاں تک رحمان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جسے اللہ کی راہ میں رکھا گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر اللہ کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کی جائے جہاں تک انسان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے ، جس کو سواری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور جس پر وزن لادا جاتا ہے جہاں تک شیطان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ ہے جس پر مقابلہ بازی اور جوا کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9335
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3707)»
حدیث نمبر: 9336
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَفُهُ وَأَثَرُهُ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھتا ہے ، تو اس کا چارہ اور اس کا نشان ( یعنی قدم کا نشان ) قیامت کے دن اس شخص کے میزان میں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (411 و 1194)»