حدیث نمبر: 9338
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ ؛ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِي يَرْتَبِطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَعَلَفُهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ - وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ - وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُقَامِرُ عَلَيْهِ وَيُرَاهِنُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا فَهِيَ سَتْرٌ مِنْ فَقْرٍ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، فَإِنْ كَانَ الْقَاسِمُ بْنُ حَسَّانَ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک گھوڑا رحمن کے لئے ہوتا ہے ایک گھوڑا انسان کے لئے ہوتا ہے اور ایک گھوڑا شیطان کے لئے ہوتا ہے ، تو جہاں تک رحمن والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں باندھتا ہے اس کا چارہ اس کا پیشاب اور اس کی لید اس کے بعد جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے ذکر کیں جہاں تک شیطان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جس پر آدمی جوا کھیلتا ہے اور اسے گھڑ دوڑ میں لے جاتا ہے جہاں تک انسان سے متعلق گھوڑے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ گھوڑا ہے جسے انسان باندھتا ہے اور وہ اس کی افزائش نسل چاہتا ہے ، تو یہ غربت سے بچاؤ کا ذریعہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگر قاسم بن حسان نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، تو پھر یہ حدیث ” صحیح “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3756)»