کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پچھنے لگوانے کی جگہ
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " الْحُجْمَةُ الْتِي فِي وَسَطِ الرَّأْسِ ، إِنَّهَا دَوَاءٌ مِنَ الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، وَالنُّعَاسِ ، وَالْأَضْرَاسِ " . وَكَانَ يُسَمِّيهَا : " أُمَّ مُنْقِذٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَاخْتَلَفَ كَلَامُ ابْنِ مَعِينٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سر کے درمیان میں پچھنے لگوانا ، جنون ، جذام ، پھلبہری ، حواس کے فتور اور داڑھ ( کے درد ) کے لئے دواء ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اُم منقذ ( نجات دلانے والے کی ماں ) کا نام دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ متروک ہے اس کے بارے میں یحیی بن معین کا کلام مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8335
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحِجَامَةُ فِي الرَّأْسِ دَوَاءٌ مِنَ الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، وَالنُّعَاسِ ، وَالضِّرْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ الْجُهَنِيُّ ، وَيُقَالُ : مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سر میں پچھنے لگوانا ، جنون ، جذام ، پھلبہری ، داڑھ ( کے درد ) کی دواء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن سالم جہنی ہے ایک قول کے مطابق اس کا نام مسلم بن سالم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13150)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحْتَجِمُ فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهِ وَيُسَمِّيهَا : " أُمَّ مُغِيثٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سر کے آگے والے حصے میں پچھنے لگواتے تھے اور آپ اسے اُم مغیث ( مدد کرنے والے کی ماں ) کا نام دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " الْحِجَامَةُ فِي الرَّأْسِ شِفَاءٌ مِنْ سَبْعِ أَدْوَاءٍ لِصَاحِبِهَا : مِنَ الْجُنُونِ ، وَالصُّدَاعِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، وَالنُّعَاسِ ، وَوَجَعِ الْأَضْرَاسِ ، وَظُلْمَةٍ يَجِدُهَا فِي عَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ الْعَبْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سر میں پچھنے لگوانا ، سات بیماریوں کے لئے شفاء ہے ، جنون ، سر درد ، جذام ، پھلبہری ، اونگھ اور داڑھ کا درد ، اور وہ تاریکی جو آدمی کو آنکھوں میں محسوس ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ریاح عبدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8338
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10938)»
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِالْحِجَامَةِ فِي جَوْزَةِ الْقَمَحْدُوَةِ ، فَإِنَّهُ دَاءٌ مِنِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ دَاءً ، وَخَمْسَةِ أَدْوَاءٍ مِنَ الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، وَوَجَعِ الْأَضْرَاسِ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر ، سر کے پچھلے حصے کے درمیان میں پچھنے لگوانا لازم ہے ، کیونکہ یہ بہتر بیاریوں کی دواء ہے ، اور پانچ چیزوں کی دواء ہے ، جنون ، جزام ، پھلبہری اور داڑھ کا درد “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں میں نے سماع والی اصل میں اس کو اسی طرح پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7306)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ فِي هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَقَالُوا : أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، إِنَّكَ تَحْتَجِمُ هَذِهِ الْحِجَامَةَ . فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحْتَجِمُهَا فِي هَامَتِهِ وَيَقُولُ : ¤ " مَنْ أَرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ لَا أَعْلَمُ لَهُ صُحْبَةً ، وَأَبُو هَزَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے سر میں اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے لوگوں نے کہا: اے امیر ! کیا آپ پچھنے لگوا رہے ہیں انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سر میں پچھنے لگواتے تھے اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے : ” جو شخص اس خون کو بہا دیتا ہے ، تو اسے یہ چیز نقصان نہیں دے گی کہ اگر وہ کوئی چیز دواء کے طور پر ( یا علاج کے طور پر ) استعمال نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، میرے علم کے مطابق سیدنا عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔ ابوہزان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف