حدیث نمبر: 8340
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ فِي هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَقَالُوا : أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، إِنَّكَ تَحْتَجِمُ هَذِهِ الْحِجَامَةَ . فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحْتَجِمُهَا فِي هَامَتِهِ وَيَقُولُ : ¤ " مَنْ أَرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ لَا أَعْلَمُ لَهُ صُحْبَةً ، وَأَبُو هَزَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے سر میں اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے لوگوں نے کہا: اے امیر ! کیا آپ پچھنے لگوا رہے ہیں انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سر میں پچھنے لگواتے تھے اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے : ” جو شخص اس خون کو بہا دیتا ہے ، تو اسے یہ چیز نقصان نہیں دے گی کہ اگر وہ کوئی چیز دواء کے طور پر ( یا علاج کے طور پر ) استعمال نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، میرے علم کے مطابق سیدنا عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔ ابوہزان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف