کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پچھنے لگوانے کے اوقات
حدیث نمبر: 8327
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي الْجُمْعَةِ لَسَاعَةً لَا يَحْتَجِمُ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا مَاتَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے ، جو شخص اس میں پچھنے لگوا لے گا ، وہ مر جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8327
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6779)»
حدیث نمبر: 8328
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ فَأَصَابَهُ وَضَحٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص بدھ کے دن ، یا ہفتے کے دن پچھنے لگوائے ، اور پھر اسے برص لاحق ہو جائے ، تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8328
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3022)»
حدیث نمبر: 8329
وَأَعَادَهُ بِسَنَدِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ وَيَوْمَ السَّبْتِ " . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے ساتھ دہرایا ہے ، اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص بدھ کے دن اور ہفتے کے دن پچھنے لگوائے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3022)»
حدیث نمبر: 8330
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ احْتَجِمُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ ، لَا يَتَبَيَّغْ بِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَكُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ مَرْفُوعًا ، خَلَا قَوْلَهُ : " لَا يَتَبَيَّغْ بِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگواؤ ایسی صورت میں خون جوش مار کر تمہیں قتل نہیں کرے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ایسی صورت میں خون جوش مار کر تمہیں قتل نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8330
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3023) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11076)»
حدیث نمبر: 8331
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَلَتْ سُورَةُ الْحَدِيدِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَخَلَقَ اللَّهُ الْحَدِيدَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَقَتَلَ ابْنُ آدَمَ أَخَاهُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” منگل کے دن ، سورہ حدید نازل ہوئی ، منگل کے دن اللہ تعالیٰ نے لوہے کو پیدا کیا ، منگل کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا “ راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منگل کے دن پچھنے لگوانے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8331
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8332
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَجِمُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنَ الشَّهْرِ ، فَقُلْتُ : هَذَا الْيَوْمَ تَحْتَجِمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَمَنْ وَافَقَ مِنْكُمُ الثُّلَاثَاءَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنَ الشَّهْرِ فَلَا يُجَاوِزْ حَتَّى يَحْتَجِمَ ، فَاحْتَجِمُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پچھنے لگوا رہے تھے یہ منگل کے دن ، مہینے کی سترہ تاریخ کی بات ہے ، میں نے عرض کی : کیا آپ آج پچھنے لگوا رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے جس شخص کو مہینے کی سترہ تاریخ منگل کے دن آئے ، اور وہ پچھنے لگوانے سے پہلے اس سے آگے نہ جائے تم لوگ ( اس تاریخ کو ) پچھنے لگوا لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8332
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11366)»
حدیث نمبر: 8333
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحِجَامَةُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ دَوَاءٌ لِدَاءِ السَّنَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ أَبِي الْحِوَارِيِّ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہینے کی سترہ تاریخ کو جب منگل ہو ، تو اس وقت پچھنے لگوانا سال بھر کی بیماریوں کے لئے دواء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوحواری عمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8333
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (215/20)»
حدیث نمبر: 8334
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : ¤ أَنْفَعُ الْحِجَامَةِ مَا كَانَ فِي نُقْصَانِ الشَّهْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ فِي تَرْجَمَةِ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ سِيرِينَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سب سے زیادہ فائدہ مند پچھنے لگوانا وہ ہے ، جو مہینے کے کمی کے دنوں میں ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ، اس شخص کے حالات میں نقل کی ہے ، جس کا نام ابراہیم ہے اس کے رجال ثقہ ہیں صرف سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8334
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع