عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعَتَ مِنْ عِرْقِ النَّسَا : " أَنْ تُؤْخَذَ أَلْيَةُ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ لَيْسَتْ بِصَغِيرَةٍ وَلَا عَظِيمَةٍ ، فَتُذَابُ ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى رِيقِ النَّفَسِ جُزْءًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک انصاری شخص ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری میں یہ دوا تجویز کی ہے کہ عربی دنبے کی چکی لے کر ، جو نہ چھوٹی ہو نہ بڑی ہو ، اسے پگھلا دیا جائے ، اور اس کے تین حصے کیے جائیں ، تو روزانہ ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَصِفُ فِي عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ ، يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَيُذَابُ وَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرق النساء کی بیماری میں عربی دنبے کی چکی منتخب کرتے تھے جو نہ چھوٹی ہو اور نہ بڑی ہو اس کے تین حصے کیے جائیں اسے پگھلا کر روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى أَوْ أُهْدِيَ لَهُ كَبْشٌ ، فَلْيُقَسِّمْهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءَ ، فَلْيَطْعِمْ كُلُّ يَوْمٍ جُزْءًا عَلَى الرِّيقِ ، إِنْ شَاءَ أَسَلَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَكْلَهُ أَكْلًا " . - يَعْنِي : أَلْيَةُ كَبْشٍ - يُتَدَاوَى بِهِ مِنْ عِرْقِ النَّسَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : أَسَلَاهُ يَعْنِي : أَذَابَهُ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دنبہ خریدے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس شخص کو دنبہ تحفے کے طور پر دیا جائے وہ اس کے تین حصے کر لے اور روزانہ ایک حصہ نہار منہ کھائے اگر وہ چاہے ، تو اسے پگھلا لے اور اگر وہ چاہے ، تو ویسے کھا لے “ ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ دنبے کی چکی کے ساتھ ایسا کرے اور اسے عرق النساء کی بیماری میں دواء کے طور پر استعمال کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : لفظ اسلاہ سے مراد اسے پگھلا دینا ہے اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : لفظ اسلاہ سے مراد اسے پگھلا دینا ہے اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " . ¤ قَالَ : وَنَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ ، تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، ثُمَّ يُذَابُ ، فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءًا عَلَى الرِّيقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھنبی ، من کا حصہ ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے ، اور عجوہ جنت میں سے ہے ، اور یہ زہر کے لئے شفاء ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری میں دنبے کی چکی تجویز کی ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں پھر اسے پگھلا لیا جائے ، اور روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہدی بن جعفر رملی ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہدی بن جعفر رملی ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔