مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِرْقِ النَّسَا باب: عرق النساء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى أَوْ أُهْدِيَ لَهُ كَبْشٌ ، فَلْيُقَسِّمْهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءَ ، فَلْيَطْعِمْ كُلُّ يَوْمٍ جُزْءًا عَلَى الرِّيقِ ، إِنْ شَاءَ أَسَلَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَكْلَهُ أَكْلًا " . - يَعْنِي : أَلْيَةُ كَبْشٍ - يُتَدَاوَى بِهِ مِنْ عِرْقِ النَّسَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : أَسَلَاهُ يَعْنِي : أَذَابَهُ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دنبہ خریدے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس شخص کو دنبہ تحفے کے طور پر دیا جائے وہ اس کے تین حصے کر لے اور روزانہ ایک حصہ نہار منہ کھائے اگر وہ چاہے ، تو اسے پگھلا لے اور اگر وہ چاہے ، تو ویسے کھا لے “ ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ دنبے کی چکی کے ساتھ ایسا کرے اور اسے عرق النساء کی بیماری میں دواء کے طور پر استعمال کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : لفظ اسلاہ سے مراد اسے پگھلا دینا ہے اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔